مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 167

حضرت منشی مولوی رحیم بخش صاحبؓ حضرت منشی مولوی رحیم بخش صاحب ولد چوہدری عبد اللہ صاحب بمقام رعیہ سکنہ فتوکے ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔آپ رعیہ کی تحصیل کچہری میں عرائض نویس اور قانون دان تھے۔آپ کا دین میں شغف ہونے کی وجہ سے علاقہ کے لوگ آپ سے فتاویٰ حاصل کرتے تھے۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف تھے۔حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی ڈیوٹی تقریباً ۲۷ سال ان کے علاقہ میں رہی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کا یہ دستور تھا کہ آپ شفا خانہ میں مریضوں کے علاج معالجہ سے فارغ ہو کر دعوۃ الی اللہ کے لئے کچہری میں تشریف لے جاتے۔اس طرح دعوۃ الی اللہ کا سلسلہ جاری رہتا۔کچہری میں مولوی رحیم بخش صاحب عرائض نویس تھے۔جن سے آپ کا تبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا۔۱۹۰۲ء میں ایک روز دوپہر کے وقت حضرت شاہ صاحب مولوی صاحب سے تبادلہ خیالات کر رہے تھے کہ نبوت کے مسئلہ پر مولوی صاحب جوش میں آ گئے اور اس مسئلہ پر آپ نے ایک لوٹا اٹھا کر حضرت شاہ صاحب کے ماتھے پر دے مارا جس سے خون بہنا شروع ہو گیا۔حضرت شاہ صاحب کچہری سے فوری طور پر ہسپتال تشریف لے گئے۔مرہم پٹی کر کے اور لباس تبدیل کر کے دوبارہ کچہری میں تشریف لے آئے۔اس دوران مولوی صاحب کی حالت بدل گئی اور کچہری میں جتنے لوگ موجود تھے سب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب سرکاری آدمی ہیں۔آپ نے یہ کیا کر دیا۔آپ کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔مولوی صاحب اسی گھبراہٹ میں تھے کہ شاہ صاحب نے آ کر مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔مولوی صاحب کیا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے؟ کچہری میں سب دوست شاہ صاحب کے اس