مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 501 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 501

مکتوبات احمد ۳۶۱ جلد سوم طلباء و دیگر لوگ اس جگہ کی آمد ورفت کے ذریعہ سے تبدیلی خیالات نہ کریں اور یہاں کے روحانی خیالات سے مؤثر و منور نہ ہوں تب تک مہر شاہی مزوّرانہ طلسمات کا زنگ ان کے زنگ آلودہ دلوں سے محو و زائل نہیں ہو سکتا۔اللہ کرے کوئی ایسی ہی سبیل پیدا ہو کہ مہر شاہی بُت ان کے دلوں کے مندروں سے ٹوٹ جاوے۔آمین ثم آمین۔۔باقی رہا معاملہ ابتلا۔ابتلاؤں سے بچانا بھی اسی ذات مقدس کا کام ہے اور اسی سے ہر وقت دعا ہے کہ محض اپنے فضل و کرم سے ہر مصیبت وا بتلا سے محفوظ و مامون رکھے۔ایسے تو ابتلا کا میدان ہر جگہ وسیع ہے کسی خاص جگہ کی خصوصیت نہیں ہے۔ہر جگہ اسی ذات جامع کمالات ہی کا تصرف ہے۔اس کے تصرف سے کوئی جگہ خالی نہیں بلکہ مقابلہ یہ دارالامان کی سرزمین اور جگہوں کی نسبت ابتلاؤں کی سپر ہے۔کیا بلحاظ روحانیت ہو کیا بلحاظ جسمانیت ہو۔روحانیت کی پیاس بجھانے کے لئے تو آب زلال حیات ابدی کا حوض کوثر موجود ہے جس کے پینے سے ابد الآباد تک پیاس نہیں لگتی۔جسمانیت کے لحاظ سے یہاں کے تیار شدہ دل تو کچھ ایسے ابتلاؤں کی برداشت بھی کر سکتے ہیں اور یہاں کے سکول معرفت کی تعلیم یافتہ روحیں ایسے ابتلاؤں چنداں گھبراتی نہیں ہیں ورنہ کسی دیگر جگہ کے جِیفَةُ الدُّنْیا کے طالب کو تو اگر ذرا سا بھی ابتلا آ جائے تو اس کو اپنے وجود تک ہوش نہیں رہتی۔دور کیوں جائیں خود ہمارا اپنا واقعہ سال ۱۸۹۷ء کا حضور کو بخوبی یاد ہوگا کہ میرے چھوٹے بھائی پر ایک مقدمہ بن گیا تھا جس کے واسطے حضور کی خدمت میں بھی دعا کے لئے بہت کچھ عرض کیا تھا اور بطفیل دعائے آں حضرت بفضلہ تعالیٰ انجام کاربریت و مخلصی تو ہوگئی تھی مگر سال بھر کی مقدمہ بازی سے جس قدر تکلیف اٹھائی تھی اور جس قدر خرچ کی زیر باری ہوئی تھی وہ حاجت بیان نہیں۔اڑھائی ہزار روپیہ سے بڑھ کر خرچ مقدمہ ہو گیا تھا۔وہاں شاہ پور میں خاکسار کی موجودہ حالت بھی کچھ ابتلا سے کم نہیں ہے جو۔۔۔افسر ہے بوجہ عناد مذہبی کے سخت مخالف ہے۔خود بھی اس کے ورغلانے سے ایسی کوشش میں ہیں کہ اگر موقعہ لگے نہ تو صرف موقوفی تک اکتفا کرے بلکہ اس سے بڑھ کر نقصان پہنچا دے۔معمولی بجا آوری فرائض الہی تک میں سخت تنگی کرتے ہیں۔چنانچہ مکرمی اخویم مرزا خدا بخش صاحب و جناب حافظ محمد اسحاق صاحب سب اور سیر خود یہ تمام حال مشاہدہ کر آئے ہیں۔