مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 502
مکتوبات احمد ۳۶۲ جلد سوم علی ھذا القیاس ایسے سینکڑوں دنیوی ابتلا ہیں جو د نیوی اشغال کی حالت میں انسان کو ان میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی محفوظ رکھے۔یہاں دار الامان میں تو اللہ تعالیٰ کا ہر طرح سے فضل ہے۔کہاں دار الامان کی رحمت خیز سرزمین اور کہاں حِيْفَةُ الدُّنْيَا کا دیگر زاد بوم عالم۔چه نسبت خاک را با عالم پاک ۹۔جملہ حالات کو بہ ہیئت مجموعی زیر نظر لانے کے بعد خاکسار کے دل میں تو ایک ایسا جوش پیدا ہوا ہوا ہے کہ مرنا قبول مگر دار الامان کی سرزمین سے قدم باہر رکھنا محال بلکہ معرکہ قیامت سے کم نہیں اگر چہ پہلے حضور کی ایک دفعہ اجازت ہو چکی ہوئی ہے کہ خاکسار اس جگہ آجاوے اور اسی سابقہ سلسلہ میں یہ اب یہ دوسرا موقعہ پیش آیا ہے۔مگر موجودہ موقعہ کے لئے بھی حضور کی منظوری ضروری خیال کر کے نہایت مؤدبانہ خواستگار اجازت ہوں اور ساتھ ہی مستدعی دعا بھی کہ اللہ تعالیٰ اس رہائش میں برکت ڈالے اور جن اغراض کی بنا پر یہ سعی کارخیر کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے ثمرات حسنہ سے اس احقر کمترین خادم حضور کو بہرہ مند فرماویں۔کیا ہی خوش قسمتی کی وہ گھڑی ہو گی جس لمحہ میں اس دہن مبارک سے حکم اجازت نفاذ پا کر اس خادم کی روح رواں کی تر و تازگی و شادابی کا باعث ہوگا اور اس نیم مردہ جسم و جان میں از سرنو روح حیات پھونکی جاوے گی کیونکہ اس حکم اجازت پر ہی نابکار کی آئندہ قسمت کا فیصلہ ہے اور یہ حکم اب ایسے اجلاس سے صادر ہونا ہے جس کے آگے کوئی اپیل ہی نہیں۔حسن اتفاق سے آج روز جمعہ آ گیا ہے اس واسطے یہ بھی ایک فال سعید خیال کر کے اس عریضہ نیاز کے ذریعہ عَلَى الصِّبَاحِ ہی شرف باریابی حاصل کرنے کی جرات کرتا ہوں۔چونکہ تقسیم برکات کا دن اور اعلیٰ انعم الہی کے عطا ہونے کی گھڑی ہے۔اس واسطے امید ہے کہ اس سخاوت مجسم در سے خاکسار کی یہ مؤدبانہ گزارش خالی از قبولیت نہ جاوے گی۔والسلام معروضه ۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء جواب باصواب کا منتظر حضور کا کمترین خادم احقر العباد الہ داد عفی اللہ عنہ احمدی کلرک شاہ پور حال قادیان