مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 500

مکتوبات احمد ۳۶۰ جلد سوم کیونکہ وہ ابتداء سے جانتے تھے کہ خاکسار کس مذاق و مشرب کا آدمی ہے اور یہ بھی ان کو بخوبی معلوم تھا کہ عاجز کی فطرت بھی اس امر کی مقتضی ہے اور مناسبت رکھتی ہے کہ دارالامان میں رہے۔یہ افتادہ خاکسار حضور کی خاص دعاؤں سے بھی استفاده و استفاضہ کر ہی رہا تھا۔انہی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کے حصول کے لئے ذرائع خود بخود پیدا کر دیئے اور ایک صورت گزارہ بھی نکل آئی۔یہ سب بطفیل دعائے آں قبلہ دارین کے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے ورنہ یہ نابکار عاجز کسی رعایت کا مستحق تھا کہ اس قدر ذمہ داری کے وعدہ بھی دیئے جار ہے ہیں۔اس قادر مطلق سچے مربی و حقیقی محسن کے ہزار ہزار سجدات شکر بجالاتا ہوں۔جس نے اس خوشی کے دن دیکھنے کی امیدیں دلائی ہیں اور اسی ذات ستودہ صفات جامع کمالات پر بھروسہ ہے کہ وہ بے نیل المرام عاجز کو نہ چھوڑے گا۔اب کل سے پختہ امید لگنے لگی ہے کہ رحمت الہی سے کچھ بعید نہیں ہے کہ عاجز جیسے ناکارہ کو جلدی ہی مستقل طور پر اس نعمت سے متمتع ہونے کا موقعہ نصیب کرے۔ے۔جس قدر حال عرض ہوا ہے وہ صرف خاکسار کے اپنے ذاتی مفاد تک محدود تھا۔اب دیکھتا ہوں کہ اگر خاکسار کو اس جگہ دارالامان میں رہنا نصیب ہو جاوے تو صرف یہی نہیں ہے کہ اس کا فائدہ خاکسار کے وجود تک ہی محدود رہے گا۔بلکہ اس کا فائدہ خاکسار کی بڑی برادری و رشتہ داری تک بھی اگر فضل ایزدی شامل حال ہو تو پہنچ سکے گا بلکہ رفقا و اجبا بھی اس کے اثر سے خالی نہ رہیں گے۔سر دست میرے بھائیوں کے لڑکے جو ۹ ، ۱۰ کے قریب ہیں۔میری اس جگہ رہائش کے توسل سے اس جگہ دارالامان کے سکول میں آکر داخل ہو جاویں گے اور اس جگہ تعلیم پاویں گے۔ان کا یہاں آنا صرف میری یہاں کی رہائش سے وابستہ ہے اور میرے اور ان کے تعلق سے دیگر متعلقین کی آمد ورفت شروع ہو جائے گی جو بفضلہ تعالیٰ ان کی ہدایت وفیض یابی کا باعث ہوتی جائے گی۔اور اس تعلق سے کیا عجب ہے کہ اس نواح کے اور بھی بہت سے لڑکے اس جگہ آکر تعلیم پاویں کیونکہ ابتداء میں صرف تحریک چاہئے پھر پیچھے خود بخود کام چل پڑتا ہے۔اس وقت تک کوئی ذریعہ تحریک کا اس طرف پیدا نہیں ہوا۔اپنی جانب سے تو کوشش ہے۔آگے اس کوشش میں خود اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔اس طرف کی مہر شاہی دام تزویر کا اثر اسی طرح سے انشاء اللہ تعالیٰ مٹے گا جب تک