مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 434

مکتوبات احمد ۲۹۴ جلد سوم فارسی مکتوب کا ترجمہ بخدمت اخویم مکرم سیدامیر علی شاہ صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مولوی خویم محمد تفضل حسین صاحب کے عنایت نامہ کے ہمراہ آپ کا تلطف نامہ ملکر بہت ہی ممنونی کا موجب ہوا۔وہ کلمات جو نور ایمان کی راہنمائی و حسن ظن کہ جو مومن بھائیوں کی سیرت سے ہے آں مہربان نے مدح وثنا کے پیرا یہ میں حوالہ قلم کئے ہیں وہ تمام صفائی نظر فراست صحیحہ اور آں مکرم کی طہارت باطنی پر کافی دلیل ہے۔ثَبَّتَكُمُ اللهُ عَلَيْهَا وَ الْزَمَكُمُ كَلِمَةَ التَّقْواى۔جو سوالات که تحریر فرمائے گئے ہیں میں اس بارہ میں شرمندہ ہوں کہ بوجہ علالت طبع و فرصت کی کمی کے جواب لکھنے سے جو کہ کافی طویل ہوگا قاصر ہوں اور چند نصیحتیں جو کہ تلطف نامہ میں درج ہیں اُن کا شکر یہ مجھ پر واجب ہے۔جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَ اَعْطَكُمُ دَقَائِقَ الْهُدَى وَالنُّهَى۔لیکن الہامات کے اظہار سے منع کرنے کے متعلق جو اشارے آپ نے فرمائے ہیں اُس کے معنی میں نہیں سمجھا شاید اس نصیحت کے لکھتے وقت اس عاجز کی عبودیت آپ کے خیال عالی سے نظر انداز ہوگئی ہے۔یہ بندہ خود اپنی طرف سے نہ تو اخفا کی راہ اختیار کرتا ہے اور نہ اعلان کی راہ۔اس بندے کو اپنی مرضی سے کیا کام۔یہ تو مولیٰ کی مرضی کے تابع ہے جس طرف وہ کھینچتا چلا جاتا ہے۔مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہے۔جس طرح بھی پھیر دے اسی طرف ہو جاتا ہے اور یہ بھی عجیب ہے کہ جو کچھ اظہا ر اسرار ملکوت کے اظہار اور قدرت حی لا یموت کے انبیاء علیہم السلام کو جائز ہے اُن کے جانشینوں پر جن کو انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہہ دی گئی ہے حرام اور نا جائز ہے۔حالانکہ وہ انبیاء کی مانند مامور ہو کر آتے ہیں اور اتمام حجت وقطع عذرات منکرین اُن کے منصب کے لوازم میں سے ہے۔دیکھیں وہ گوشہ نشین کہ جن کو اصلاح خلق سے کام نہیں ہے اور نہ ہی دعوت حق کے لئے مامور ہوتے ہیں اُن کو یہی مناسب ہے کہ ان اسرار کو مستور ومخفی رکھیں لیکن وہ جو مامور بہ اظہار ہے وہ اگر اخفا کی راہ اختیار کرے تو وہ گنہگار اور نا فرمان ہے۔کچھ تو میں ہیں کہ اخفا اور چھپانا ان کا طریق ہے اور اگر اظہار کریں تو سلب ولائت ہوتی ہے کیونکہ اُن کا اظہار نفس کے جوش سے ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے امر سے ایک دوسری قوم ہے جو اپنی ذات سے اور اپنے نفس سے بگھی مسلوب ہیں اور