مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 435

مکتوبات احمد ۲۹۵ جلد سوم عشق اظہار الہی سے مکتب و معمور۔اگر چہ وہ نبی نہیں ہیں مگر شان نبوت رکھتے ہیں اور انبیاء کی مانند اصلاح خلق کے لئے آتے ہیں اور لاجرم اُن کے کام کی اساس اظہار پر ہے نہ اخفا پر۔اور منازل و جاہت و مقامات ولائت و بیان معاملات ربانی و مکالمات رحمانی اور کشف اسرار روحانی میں ان کے دعاوی اُن کے لئے نقصان دہ نہیں بلکہ مولیٰ کی خوشنودی کا باعث اور ترقی مدارج اور عظیم شجاعت کے تحقق کا موجب ہیں۔غور فرمائیں کہ ائمہ ہدی سے کس قدر کلمات فخریہ خود اُن کی کتب و رسائل میں موجود ہیں۔مثلا سیدی عبد القادر رضی اللہ عنہ تالیفات وقصائد میں اور معرکہ کربلا میں اشعار فخریہ سید الشہدا تواتر سے پائے جاتے ہیں اور اس قسم کے کئی الفاظ بھرے پڑے ہیں کہ اُن کو چھپایا نہیں جا سکتا۔اسی طرح جابجا اس طرح کے کلمات اور اس قسم کے دعاوی عالیہ اس قوم کی کتب میں بھرے ہوئے ہیں اس سے زیادہ بیان کی ضرورت نہیں وَ مَا أُبَرِّئُ نَفْسِی اِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبّی کی رو سے جس چیز کا اظہار ماموریت من اللہ سے ہو وہ اظہار مظہر حقیقی کی طرف سے ہے اور اُس پر طعن و تشفیع ایسے لوگوں کی طرف سے بعید ہے جو کہ یہ جانتے ہیں کہ یہ راہ اُمت حضرت خیر الا نام جن پر ہزاروں ہزا ر سلام ہوں میں قدیم سے مکشوف ہے ایسے لوگ ہمیشہ اس امت میں رہے ہیں اور ہیں اور رہیں گے اور اگر کوئی شخص تحدیث نعمت اللہ کی نسبت سے آلا ونعما جو اُ سے حق جل وعلاء کی طرف سے نصیب ہیں بیان کرے بشرطیکہ مامور باخفا نہ ہو۔اس میں ہرج نہیں بلکہ اشاعت علم و معرفت۔اور اس علم و معرفت سے لوگوں کو متمتع اور مستفیض کرنا اس علم و معرفت کے اخفا سے بہتر ہے۔اور حدیث میں آیا ہے کہ جس کسی کو کوئی علم دیا گیا اور اُس نے اُس علم سے بندگان خدا کو نفع نہ پہنچا یا قیامت کے دن اُس سے مواخذہ ہو گا۔غرض حقیقت یہی ہے جو میں نے بیان کر دی۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَالِ الْأَعْمَالِ بِالنِّيَّاتِ - وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور