مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 22

مکتوبات احمد جلد سوم اس احقر عباد کا انصار ہونا قبول کیا ، ان کے لئے حضرت احدیت کے بڑے بڑے اجر ہیں اور میں اجمالی طور پر ان کو عجیب نور سے منور دیکھتا ہوں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ نہایت سعید ہیں اور دنیا کی روشنی ہیں۔ایک الہام حصہ چہارم کے صفحہ ۵۵۶ کی آخری سطر میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ یہ الہام اس کثرت سے بار بار ہوا تھا جس کی تعدا د خدا ہی کو معلوم ہے۔اس میں انواع اقسام کا وعدہ ہے۔غرض کریم میزبان تب کسی کو اپنی طرف بلاتا ہے کہ جب اس کے طعام کا بندو بست کر لیتا ہے اور وہی لوگ اس کے خوانِ نعمت پر بُلائے جاتے ہیں جن کو اُس عالم الغیب نے اپنی نظر عنایت سے چن لیا ہے۔سوجن کو اس نے پسند کر لیا ہے ان کو وہ رڈ نہیں کرے گا اور ان کی خطیبات کو معاف فرمائے گا اور ان پر راضی ہوگا کیونکہ وہ کریم ورحیم اور بڑا وفادار اور نہایت ہی محسن مولیٰ ہے۔فَسُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمُ - (۶ / مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۷/ جمادی الاول ۱۳۰۱ھ ) ( نوٹ ) اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت مطہرہ اور تعلق باللہ کی ایک شان نمایاں ہے اور آپ کی جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشا رات کے وعدے ہیں جن کو آج ہم پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔ے تذکره صفحه ۷۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء