مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 21
مکتوبات احمد ۲۱ جلد سوم مکتوب نمبرا حضرت منشی احمد جان رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مند و می مکرمی اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ بعد ھذا آں مخدوم کے دونوں عنایت نامہ مع اشتہار پہنچ گئے۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ - خدا وند کریم آپ صاحبوں کی کوشش میں برکت ڈالے اور آپ کو وہ اجر بخشے جو آپ کے خیال سے باہر ہو۔آں مخدوم نے جو کچھ اس عاجز کی اپنی نسبت لکھا ہے وہ عاجز کے دل میں ہے۔مُشتِ خاک کی کیا حقیقت ہے کہ کچھ دعوا می کرے یا زبان پر لاوے۔لیکن اگر خداوند کریم نے چاہا اور توفیق بخشی تو حضرت احدیت میں عاجزانہ دعا کروں گا۔آپ اپنے کام میں جہاں تک ممکن ہو ، سرگرمی سے متوجہ ہوں۔کیونکہ ایسی محبت مستحق ہوتی ہے اور حصہ چہارم کے صفحہ ۵۱۹ میں ایک الہام یہ ہے مَنْ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ وَاَحْسَنَ إِلَى أَحْبَابِكُمْ يہ الہام اگر چہ بصورت ماضی ہے لیکن اس سے استقبال مراد ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ تم پر احسان کرے گا اور تمہارے دوستوں سے نیکی کرے گا اور پھر حصہ چہارم صفحہ ۲۴۲ میں الہام ہوا وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ! اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ جو لوگ ارادت سے رجوع کرتے ہیں ان کا عمل مقبول ہے اور ان کے لئے قدم صدق ہے۔پھر صفحہ ۲۴۱ میں ایک الہام ہے۔يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ سے یعنی تیری مدد وہ کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ ڈالیں گے۔سوان سب الہامات سے خوشنودی حضرت احدیت کی نسبت سمجھی جاتی ہے جن کو خدا نے اس طرف رجوع بخشا ہے۔اس سے زیادہ ذریعہ حصول سعادت اور کوئی نہیں کہ جو مرضی مولا ہے اُس کے موافق کام کیا جائے اور مولا کریم کی ایک نظر عنایت انسان کے لئے کافی ہے۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ جو اخوان مومنین اس بات کی توفیق دیئے گئے ہیں جو انہوں نے صدق دل سے ے تذکرہ صفحہ ۷۵ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ۲ تذکرہ صفحہ ۱۹۷۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء سے تذکره صفحه ۳۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء