مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 23

مکتوبات احمد ۲۳ مکتوب نمبر ۲ مند و می فکر می اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ جلد سوم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ھذا کارڈ آں مخدوم پہنچا۔سوال آپ کی طرف سے یہ ہے کہ اس کارخیر میں کتنے لوگ بصدق دل ساعی ہیں۔سو واضح ہو کہ آں مخدوم کے سوا چار آدمی ہیں کہ ارادت اور حسن ظن سے ساعی ہیں۔پٹیالہ میں منشی عبدالحق صاحب اکو نٹنٹ دفتر نہر ، سرہند۔ڈیرہ غازی خاں میں منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ۔پشاور میں مولوی غلام رسول صاحب صدر قانون گو۔انبالہ میں منشی محمد بخش صاحب ، ان چاروں صاحبوں نے سعی میں کچھ فرق نہیں کیا۔منشی عبدالحق صاحب نے سب سے پہلے اس کارخیر کی طرف قدم رکھا اور جانفشانی سے کام کیا اور ان کی کوشش سے لاہور اور انبالہ اور کئی ایک شہروں میں خریداری کتاب کی ہوئی اور اب بھی وہ بدستور سرگرم ہیں۔کچھ حاجت کہنے کہانے کی نہیں۔منشی الہی بخش صاحب نے سعی اور کوشش میں کچھ دریغ نہیں کیا اور منشی محمد بخش صاحب بھی بدل و جان مصروف ہیں اور ان کی سعی سے بہت مدد پہنچی۔یہ چاروں صاحب دلی مخلص ہیں اور حتی الوسع اپنی خدمت ادا کر چکے ہیں۔مگر پھر سے دوبارہ منشی عبد الحق صاحب و منشی الہی بخش صاحب کو لکھا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سعی میں کچھ فرق نہ کریں گے اور نہ کیا ہے۔اور ان کے سوا دو تین آدمی اور بھی ہیں کہ جنہوں نے حسب مقدار جوش اپنے کچھ خدمت کی ہے۔مگر بہتر ہے کہ ان کی اسی قدر خدمت پر قناعت کی جائے تا موجب کسی ابتلا کا نہ ہو۔(۱۵/ مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶ / جمادی الاول ۱۳۰۱ھ ) (نوٹ) مندرجہ بالا مکتوب کے متعلق مجھے نہایت درد دل کے ساتھ ایک ضروری امر کا اظہار کرنا پڑتا ہے اور یہ مقام خوف ہے۔جن بزرگوں کا اس مکتوب میں حضرت اقدس نے ذکر فرمایا ہے سوائے مولوی غلام رسول صاحب کے، میں تینوں بزرگوں سے ذاتی