مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 98

مکتوبات احمد مکتوب نمبر ۳ مند و می مکر می اخویم صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلّمۂ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد سوم آں مخدوم کا عنایت نامہ جو محبت سے بھرا ہوا ( تھا پہنچا۔عرفانی) جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَ اَحْسَنَ إِلَيْكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْعُقْبی۔یہ عاجز حضرت عزّ اسمہ میں شکر گزار ہے کہ ایسے مخلص دوست اسی نے میرے لئے میر کئے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ - ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں اور اس جگہ بفضلہ تعالیٰ سب خیریت سے ہے۔۸/دسمبر ۱۸۸۴ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ( نوٹ ) اس مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۱۸۸۴ء میں حضرت کی خدمت میں پہنچ چکے تھے اور اخلاص و عقیدت کی منزلوں کو طے کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کا اثر غالب تھا اور وہ ہرا مر کو فعل باری ہی کا نتیجہ یقین کرتے تھے۔حضور کے مکتوبات کے پڑھنے سے یہ بھی نمایاں ہوتا ہے کہ حضور اپنے خدام اور غلاموں کو کس محبت اور ادب سے خطاب کرتے تھے۔یہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔خدام اور وابستگانِ دامن آپ کی روحانی اولاد تھی اور آپ اَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمُ کے ماتحت ہر شخص سے یہ محبت واکرام پیش آتے تھے۔(عرفانی کبیر)