مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 99
مکتوبات احمد ۹۱ جلد سوم مکتوب نمبر۴ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم صاحبزادہ سراج الحق صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته عنایت نامه آن مخدوم پہنچا ، موجب خوشی ہوا۔خدا وند کریم آئمکرم کو خوش و خرم رکھے۔یہ عاجز کچھ عرصہ بیمار رہا اور اب بھی اس قد ر ضعف ہے کہ کوئی کام محنت کا نہیں ہوسکتا۔اسی باعث سے ابھی کام حصہ پنجم شروع نہیں ہوا۔بعد درستی و صحت طبیعت انشاء اللہ شروع کیا جائے گا۔آپ نے جو سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کی اجازت چاہی ہے یہ کام صرف اجازت سے نہیں ہو سکتا بلکہ امر ضروری یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے مضمون سے مناسبت حاصل ہو۔جب انسان کو ان باتوں پر ایمان اور ثبات حاصل ہو جائے جو سورۃ فاتحہ کا مضمون ہے تو برکات سورۃ فاتحہ سے مستفیض ہو گا۔آپ کی فطرت بہت عمدہ ہے اور میں بھی امید رکھتا ہوں کہ خدا وند کریم جل شانہ آپ کی جد و جہد پر ثمرات حسنہ مرتب کرے گا۔وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۷ مارچ ۱۸۸۵ء والسلام * خاکسار غلام احمد از قادیان (نوٹ) یہ مکتوب شریف قریباً پچاس سال پہلے کا ہے۔پیر صاحب چونکہ ایک سجادہ نشین کے بیٹے تھے اور عملیات اور چلہ کشیوں کو ہی معراج سلوک و معرفت یقین کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس زمانے میں جب کہ ابھی بیعت بھی نہیں لیتے تھے۔سورہ فاتحہ کے برکات اور فیوض کو بطور منتر حاصل کرنے کے لئے اجازت چاہی ، جیسا کہ آج کل کے مروجہ پیروں اور سجادہ نشینوں میں یہ طریق جاری ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ جب تک العنكبوت: ٧٠ الحکم نمبر ۱ جلد ۲۰ مورخه ۲۱ / اپریل ۱۹۱۸ صفحه ۴