مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 80
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے پسر متوفی کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے۔ان میں سے ایک بشیر اور ایک عنموائیل اور ایک خدا با ماست ورحمت حق اور ایک ید اللّٰہ بجلال وجمال ہے اورا س کی تعریف میں ایک یہ الہام ہوا۔جَآئَ کَ النُّوْرُ وَھُوَ اَفْضَلُ مِنْکَ ۱؎ یعنی کمالات استعدادیہ میں وہ تجھ سے افضل ہے اور چونکہ اس پسر متوفی کو اس آنے والے فرزند سے تعلقات شدید تھے اور اس کے وجود کے لئے یہ بطور ارہاص تھا۔اس لئے الہامی عبارت میں جو ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں درج تھی۔ان دونوں کے ذکر کو ایسا مخلوط کیا گیا کہ گویا ایک ہی ذکر ہے۔ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسر انام محمود ہے جس کی نسبت فرمایا۔وہ اولو العزم ہوگا اور حسن اور احسان میں تیر انظیر ہوگا۔یَخْلُقُ مَایَشَآئُ یہی حقیقت حال ہے جو میں نے آپ کے لئے لکھی۔۲؎ الراقم ۴ دسمبر ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد ازقادیان ضلع گورداسپور ٭ مُلک پنجاب۔۲۹ ربیع الاوّل ۱۳۰۶ھ نوٹ: اس خط کی نقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ اور کپور تھلہ کے بعض احباب اور بعض اخص صحابہ کو بھجوائی تھیں۔اور محترم عرفانی صاحب نے خط مکتوبات جلد پنجم حصہ پنجم میں شامل فرمایا تھا۔(ناشر)