مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 81
مکتوب نمبر۴۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں عنایت نامہ پہنچا۔جو کچھ پرچہ تکمیل تبلیغ میں تاریخ لکھی گئی ہے وہ فقط انتظامی امر ہے تا ایسی تقریب میں اگر ممکن ہو تو بعض اخوان مومنین کا بعض سے تعارف ہو جاوے کوئی ضروری امر نہیں ہے۔آپ کے لئے اجازت ہے کہ جب فرصت ہو اور کسی طرح کا ہرج نہ ہو تو اس رسم کے پورا کرنے کیلئے تشریف لے آویں بلکہ تقریب شادی پر جو آپ تشریف لاویں گے وہ نہایت عمدہ موقع ہے اور شرائط پر پابند ہونا باعتبار استطاعت ہے۔۱؎۔میرے دوسرے خط کے جواب سے جلد مطلع فرماویں تا لدھیانہ میں اطلاع دی جاوے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ بماہ مارچ کشمیرکی طرف روانہ ہوں۔پس اگر یہی ضرورت ہو تو بماہ فروری کاروبار شادی بخیرو عافیت اہتمام پذیر ہونا چاہئے۔منشی عبدالحق صاحب و بابو الٰہی بخش صاحب لاہور سے تشریف لائے تھے۔منشی عبدالحق صاحب نے تقریر کی تھی کہ ردّ تکذیب کو عام پسند بنانے کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ دیباچہ کتاب میں کھول کر لکھا جائے کہ ہمارا ایمان تو خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایسا قوی اور وسیع ہے کہ جس طرح اہل سنت و الجماعت تسلیم کرتے ہیں مگر بعض نادر طور کے جواب صرف مخاطبین کی تنگ دلی اور قلت معرفت کے لحاظ سے ان کے مذاق کے موافق لکھے گئے ہیں تا انہیں معلوم ہو کہ قرآن شریف پر اعتراض کرنے سے کسی معقولی اور منقولی کو مجال نہیں۔اس عاجز کی دانست میں بھی ایسا لکھنا نہایت ضروری ہے تا عوام الناس فتنہ سے بچ جائیں۔زیادہ خیریت ہے۔٭ والسلام ۲۰؍ فروری ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد از قادیان