مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 79

کا تھا اور اس کے استعدادی کمالات دوسرے عالم میں نشوونما پائیں گے۔قصیر العمر ہونا اس کے علوِّجوہر کے لئے مضر نہیں بلکہ اس کا پاک آنا اور پاک جانا اور گناہ سے بکلی معصوم رہنا اس کے شرف پر ایک بدیہی دلیل ہے۔اور جیسا کہ الہام نے بتلایا تھا کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اور وہ گناہ سے پاک ہے۔ایسا ہی وہ مہمان کی طرح چند روز رہ کر پاکی اور معصومیت کی حالت میںاٹھایا گیا اور موت کے وقت بطور خارق عادت اس کاچہرہ چمکا اور اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور سو گیا۔یہی اس کی موت تھی جو معمولی موتوں سے دُور اور نہایت پاک و صاف تھی۔اس جگہ یہ بھی تحریر کے لائق ہے کہ اس کی موت سے پہلے اللہ جل شانہ نے اس عاجز کو پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کرچکا ہے اور اب فوت ہو جائے گا۔اسی وجہ سے اس کی موت نے اس عاجز کی قوتِ ایمانی کو بہت ترقی دی اور آگے قدم بڑھایا۔اس موت کی تقریب پر بعض مسلمانوں کی نسبت یہ الہام ہوا۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْآ اٰمَنَّا وَھُمْ لَایُفْتَنُوْنَ۔قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُیُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْتَکُوْنَ مِنَ الْھَا لِکِیْنَ۔شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ۔اِنَّ الصَّابِرِیْنَ یُوَفّٰی اَجْرُھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔۱؎ اب خدا تعالیٰ نے ان آیات میں صاف بتلا دیا کہ بشیر کی موت لوگوں کی آزمائش کے لئے ایک ضروری امر تھا۔جو کچے تھے وہ مصلح موعود کے ملنے سے ناا مید ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ تو اسی طرح اس یوسف کی باتیں ہی کرتا رہے گا یہاں تک کہ قریب مرگ ہو جائے گا یا مر جائے گا۔سو خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ ایسوں سے اپنا منہ پھیرلے جب تک وہ وقت پہنچ جائے۔اور بشیر کی موت پر جو ثابت قدم رہے ان کے لئے بے اندازہ اجر کا وعدہ ہوا۔یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور کوتاہ بینوں کی نظر میں حیرت ناک۔کوتہ بین لوگ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جس حالت میں اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت ہوں گے، تو کیا یہ ضرور نہ تھا کہ وہ پیشگوئی پوری ہوتی۔فی الحقیقت بشیر کی خورد سالی کی موت نے ایک پیشگوئی کو پورا کیا جو اس کی موت سے تین سال پہلے کی گئی تھی۔سو دانا کے لئے زیادہ معرفت کا محل ہے نہ انکار اور حیرت کا۔