مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 590
مکتوب نمبر ۱۹۸ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کے چندہ دس روپے ماہوار کی حضرت مولوی محمد احسن صاحب کو اطلاع دی گئی۔خدا تعالیٰ آپ کو اجر بخشے اور کتاب رسالہ نشانِ آسمانی کسی قدر امرتسر میں باقی ہے۔جس وقت کتابیں آتی ہیں روانہ کروں گا۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۷؍ جولائی ۱۸۹۲ء خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۱۹۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مبلغ بیس روپے مرسلہ آنمکرم مجھ کو مل گئے۔جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء۔رسالہ عربی سیالکوٹ میں چھپ رہا ہے۔شاید بیس روز تک تیار ہو جائے۔اس رسالہ کی تالیف کے دو مقصد ہیں۔اوّل یہ کہ عربوں کے معلومات وسیع کئے جاویں اور اپنے حقائق و معارف کی ان کو اطلاع دی جائے۔دوسرے یہ کہ میاں محمدحسین اور ان کے ساتھ دوسرے علماء جو اپنی عربی دانی اورعلم دین پر ناز کرتے ہیں۔ان کا یہ کبر توڑا جائے۔چنانچہ اس رسالہ کے ساتھ اسی غرض سے ہزار روپیہ کاا شتہار بھی شامل ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۱۶؍ جولائی ۱۸۹۲ء خاکسار غلام احمد از قادیان