مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 589
مکتوب نمبر ۱۹۷ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی محبی منشی رستم علی صاحب سلّمہ ربّہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔محبت نامہ پہنچا۔آپ کی دلی ہمدردی اور محبت اور اخلاص فی الواقعہ ایسا ہی ہے کہ کسی قسم کا فرق باقی نہیں رکھا۔جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء واحسن الیکم فی الدنیا والعقبٰی۔رسالہ آسمانی نشان کے شروع ہونے میں یہ دیر ہے کہ میاں نور احمد مہتمم مطبع کی لڑکی جوان فوت ہوگئی ہے۔اس غم کے سبب سے چند روز اس کو توقف ہوگئی۔اب وہ قادیان آکر اوّل قرار داد اجرت باہم کرکے ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر سے اجازت لیں گے کہ قادیان میں مطبع لاویں۔بعد ازاں مطبع لے آویں گے۔شاید اس عرصہ میں ہفتہ عشرہ اور دیر لگ جاوے۔اسماعیل کو سمجھا دیا گیا۔اس کا بھائی لاہور کسی جگہ نوکر ہے۔وہ کہتا ہے۔دوتین روز میں وہاں سے الگ ہوکر امرتسر پہنچ جائے گا۔آپ کی دس تاریخ جولائی تک انتظار رہے گی۔کتابیں ابھی امرتسر سے آئی نہیں۔امید کہ چھ سات روز تک آجائیں گی اور شاید آپ کے پہنچنے تک آجائیں۔والسلام ۶؍جولائی ۱۸۹۲ء خاکسار غلام احمد ازقادیان