مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 505
مکتوب نمبر۷۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔آپ نے جو مخنثوں کا گھر آباد دیکھا جو زیوروں سے آراستہ ہیں اس سے مراد دنیا دار ہیں جو دنیا کی آرائشوں میں مشغول ہیں اور جو دیکھا کہ ایک دوست کی تلاش میں دوڑ رہے ہیں اور پرواز بھی کر رہے ہیں اور پھر ملاقات ہو گئی۔یہ کسی کامیابی کی طرف اشارہ ہے اور دوست کے جگر سے دوست کا مال مراد ہے جوانسان کو بالطبع عزیز ہوتا ہے اور دشمن کے جگر کا کاٹنا اس پر تباہی ڈالنا ہے۔تلوار ہاتھ میں ہونا فتح و نصرت کی نشانی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے وہ کام جو اَب درپیش ہیں، آپ کو دکھا دیا ہے۔اس کام میں چند دوستوں کو قرضہ کے لئے تکلیف دی گئی ہے تا دشمنوں کی بیخ کنی کی جائے۔سو خواب نہایت عمدہ ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ فرصت نکال کر ملاقات کریں۔ایک اور تکلیف دیتا ہوں اگر ممکن ہو تو اس کے لئے سعی کریں۔آج کل ماہ رمضان میں بباعث مہمانداری و مصارف خانگی میں روغن زرد یعنی گھی کی بہت ضرورت در پیش ہے اور اتفاق ایسا ہوا کہ گھی جو جمع تھا سب خرچ ہو گیا اور اردگرد تمام تلاش کیا گیا، اچھا گھی ملتا نہیں۔آخر چھ سات دن کے بعد ہمارا معتبر میاں فتح خاں واپس آیا۔اگر پانچ روپیہ کا گھی عمدہ کسی گائوں سے مل سکے تو میرے حساب میں ضرور خرید کر ضرور ساتھ لاویں اور وہ دوسری چیزیں بھی جو میں نے پہلے لکھی تھیں۔بخدمت چوہدری صاحب سلام مسنون۔خاکسار ۳۰؍ مئی ۱۸۸۷ء غلام احمداز قادیان