مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 503
مکتوب نمبر ۶۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مشفقی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔شیخ مہر علی صاحب کی نسبت اب تک کوئی خبر نہیں آئی کہ بریت پاکر بخیرو عافیت گھر پہنچ گئے۔اگر آپ کو خبر ملی ہو تو برائے مہربانی اطلاع بخشیں۔قرضہ کی بابت تجربہ کار لوگوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس تجویز کی تجسس کی لیکن یہ کہا کہ جس حالت میں انہیں کتابوں کی فروخت سے قرضہ اُتارا جائے گا۔تو اس صورت میں کم سے کم ادائے قرضہ کی میعاد ایک سال چاہئے۔کیونکہ سراج منیر پانچ مہینہ سے کم میں نہیں چھپے گا۔اس لئے میں نے توکلاً علی اللہ بعض دوستوں کو لکھا ہے اورمیرا ارادہ ہے کہ اگر قرضہ کا بندوبست حسب د لخواہ ہو جاوے تو بہت جلد اس کام کو شروع کروں۔آپ کو میں نے چھ ماہ کے وعدہ کے لئے لکھا تھا۔مگر درحقیقت وعدہ ایک سال بہت خوب ہے۔اگر آپ متحمل ہوسکیں توا س ثواب کے لینے میں عین جدوجہد کریں۔میرا ارادہ ہے کہ رمضان شریف میں یہ کام شروع ہو جائے۔آئندہ جو ارادہ الٰہی ہو۔مجھے اس وقت زبانی یاد نہیں کہ آپ نے کتابوں کی قیمت میں کیا کچھ ارسال فرمایا تھا اور کیاباقی ہے۔بہرحال جوکچھ باقی ہے اب اس موقعہ میں جہاں تک جلدی ممکن ہو بھیجنا چاہئے اور نیز اس قرضہ کی بابت جو اس میعاد کے لئے ہو جیسی مرضی ہو اطلاع دینی چاہئے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۲۹؍ مئی ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان