مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 502
مکتوب نمبر ۶۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔آج آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔مولوی غلام محی الدین کے لئے میں نے کئی دفعہ دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو تردّدات سے مخلصی بخشے۔اب مجھ کو نہایت جلدی اس بات کی ہے کہ جس طرح ہوسکے اپنے کام کو شروع کروں۔کئی دوستوں کو جن پر کسی قدر امید پڑتی ہے قرضہ کے لئے لکھ دیا ہے اور سب کو لکھا گیا ہے کہ بعد طبع سراج منیر ایک برس کے وعدہ پر قرض دیں۔آپ کی مانند چارپانچ آدمی ہیں اورچودہ سَو روپیہ کے قرضہ کا بندوبست کرنا ہے۔آپ مجھ کو بہت جلد اطلاع دیں کہ آپ ٹھیک اس وعدہ پر کس قدر قرضہ کابندوبست کرسکتے ہیں تا میں روپیہ منگوانے کے لئے کوئی تجویز کروں۔اور پھر لاہور میں خرید مطبع کے لئے آدمی بھیجا جاوے۔اب یہ کام جلدی کا ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ماہ مبارک رمضان میں یہ کام شروع ہو جاوے۔جس قدر بقیہ کتب ہو وے وہ بھی آپ وصول کر کے جلد تر بھیج دیں۔والسلام ۲۹؍ شعبان خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ: اس خط میں جن مولوی غلام محی الدین صاحب کا ذکر ہے وہ مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔خاکسار عرفانی کے بھی استاد تھے۔عرفانی نے براہین احمدیہ ۱۸۸۷ء میں انہیں صاحب کے پاس دیکھی تھی اور ’’جمال وحسن قرآن نو رِ جانِ ہر مسلمان ہے‘‘ والی نظم کو اس میں سے نقل کیا تھا۔سلسلہ احمدیہ میں جیساکہ بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا نام رکھایا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میرے تعلقات کی ابتداء اسی ۱۸۸۷ء سے ہوتی ہے اور چوہدری رستم علی صاحب مرحوم ہی اس کے موجب ہیں۔یہ کتاب چوہدری صاحب ہی کی تھی۔مولوی غلام محی الدین صاحب کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ابتداً ارادت و عقیدت تھی مگر افسوس ہے کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو سکے۔(عرفانی)