مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 501
کے لئے تجویز کرکے مجھ کو اطلاع دیں تو میں جانتا ہوں کہ اس میں آپ کو بہت ثواب ہوگا۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو چھ ماہ کے اندر ہی یہ قرضہ ادا کرا دے لیکن چھ ماہ کے بعد بہرحال بلاتوقف آپ کو دیا جائے گا۔اور باقی آٹھ نو سو روپیہ کسی اور جگہ سے قرضہ لیا جائے گااس کا جواب آپ بہت جلد بھیج دیں۔کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ نے یہ خیر مقدر کی ہو۔اگر میں سمجھتا کہ آپ اِدھر اُدھر سے لے کر کچھ اور زیادہ بندوبست کرسکتے ہیں تو میں آٹھ سَو روپیہ کے لئے آپ کو لکھتا مگر مجھے خیال ہے کہ گو آپ اپنے نفس سے اللہ رسول کی راہ میں فدا ہیں۔مگر آجکل دوسرے مسلمان ایسے ضعیف ہورہے ہیں کہ اگر ان کے پاس قرضہ کا بھی نام لیا جاوے تو ساتھ ہی ان کی طبع میں قبض شروع ہوجاتا ہے۔جو اب سے جلد تر اطلاع بخشیں۔شیخ مہر علی صاحب کے مقدمہ کی نسبت اگر کچھ پتہ ہو تو ضرور اطلاع بخشیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۱۱؍مئی ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد ازقادیان نوٹ:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۷ء میں ارادہ فرمایا کہ قادیان میں ایک مطبع جاری ہو مگر مشیت ایزدی نے اس وقت اس کے لئے سامان پیدا نہ ہونے دیئے۔اس کے بعد مختلف اوقات میں قادیان میں پریس منگوایا گیا مگر وہ کام کرکے واپس چلاجاتا رہا۔آخر بالا ستقلال خدا تعالیٰ نے یہاں مطبع کا سامان مہیا کردیا۔خاکسار عرفانی نے مشین پریس قائم کیا جواب ضیاء الاسلام پریس میں کام کرتا ہے۔حضرت کے ہرارادہ کی خدا تعالیٰ نے تکمیل کردی۔گو لوکان بعد حین ہوئی مگر پریس آپ کی زندگی میں ہی اور اخبارات ورسائل بھی آپ کی زندگی میں جاری ہوگئے۔یہ منشاء الٰہی تھا اور پورا ہو کر رہا۔اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چودھری صاحب کے خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا ہونے کا اظہار فرمایا ہے جو حضرت چودھری صاحب رضی اللہ عنہ کے کمال اخلاص اور اس کے نتیجہ میں کامل فلاح پانے کا ثبوت ہے۔(عرفانی)