مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 299

مکتوب نمبر۸۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔مضمون سے آگاہی ہوئی۔اب یقینا معلوم ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلا ہے بلکہ ایک سخت ابتلا ہے۔میں اسی فکر میں تھا کہ خدا تعالیٰ دعا کرنے کیلئے پوری توجہ بخشے اور خدا کا استغناء ذاتی بھی پیش نظر تھا کہ اتنے میں نظام الدین مستری کا قصہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔معاً دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ خدا کے فضل اور کرم سے کیا تعجب ہے کہ اگر نظام الدین کی کارروائی کے موافق آپ کی طرف سے مع اپنے بھائیوں کے کارروائی ہو تو خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو نظام الدین کے ساتھ کیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ نظام الدین نام سیالکوٹ میں ایک مستری ہے۔چند روز ہوئے اس کا ایک خط میرے نام آیا۔افسوس ہے کہ وہ خط شاید چاک کیا گیا۔اس کا مضمون یہ تھا کہ میں ایک فوجداری جرم میں گرفتار ہوگیا ہوں اور کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔اس بیقراری میں مَیں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس خوفناک مقدمہ سے رہا کر دے تو میں مبلغ پچاس۵۰ روپیہ نقد آپ کی خدمت میں بلاتوقف ادا کروں گا۔اتفاق ایسا ہوا کہ جب اس کا خط پہنچا تو مجھے خود روپیہ کی ضرورت تھی۔تب میں نے دعا کی کہ اے خدائے قادر و کریم! اگر تو اس شخص کو اس مقدمہ سے رہائی بخشے تو تین طور کا فضل تیرا ہوگا۔اوّل یہ کہ یہ مضطر آدمی اس بَلا سے رہائی پا جائے گا۔دوم مجھے جو اس وقت روپیہ کی ضرورت ہے میرا مطلب کسی قدر پورا ہو گا۔سوم تیرا ایک نشان ظاہر ہو جائے گا۔دعا کرنے سے چند روز بعد نظام الدین کا خط آیا جو آپ کے ملاحظہ کیلئے بھیجتا ہوں اور دوسرے روز پچاس روپے آ گئے۔پس میرے دل میں خیال گزرا کہ ان دنوں میں دینی ضروریات کے لئے بہت کچھ تفکرات مجھے پیش ہیں۔مہمانوں کے اُترنے کیلئے عمارت نامکمل ہے۔مرزا خدا بخش کی چار سَو روپیہ کی خریدی ہوئی زمین ہے وہ توسیع مکان کے لئے مل سکتی ہے۔اگر اس قدر روپیہ دیا جائے۔پھر کم سے کم دو ہزار روپیہ اور چاہئے تا اس پر عمارت بنائی جائے اور تکمیل مینار کا فکر بھی ہر وقت دل کو لگا ہوا ہے۔مگر وہ ہزار ہا روپیہ کا کام ہے۔