مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 300
جس طرح خدا چاہے گا اس کو انجام دے گا۔بالفعل بموجب وحی الٰہی وَسِّعْ مَکَانَکَ کے مہمانوں کے پورے آرام کے لئے ان اخراجات کی ضرورت ہے۔پس میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اگر ایک بلا سے رہا ہونے کے لئے آپ معہ اپنے بھائیوں کے دوسری بلا کو منظور کر لیں یعنی یہ نذر کر لیں کہ اگر ہمیں اس بلا سے غیبی مدد سے رہائی ہوئی تو ہم اس قدر روپیہ محض للہ ان دینی ضروریات کیلئے، جس طرح ہم سے ہو سکے، بلا توقف ادا کر دیں گے۔تو میں اسی طرح دعا کروں گاجس طرح میں نے نظام الدین مستری کیلئے دعا کی تھی۔خدا تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے اس صدق کو دیکھ کر آپ کی مشکل کشائی فرماوے۔میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ ضرور یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز ہے مگر مجھے اپنے ربّ کریم کی سابق عنایتوں پر نظر کر کے یقین کُلّی ہے کہ کم سے کم وہ مجھے آئندہ کے حالات سے اطلاع دے دے گا اور چونکہ اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں پچاس یا ساٹھ نشان اوردکھلاؤں گا اس لئے تعجب نہیں کہ آپ کی اس بیقراری کے وقت یہ بھی ایک نشان ظاہر ہو جائے۔لیکن قبل اس کے کہ خدا تعالیٰ مشکل کشائی فرما دے۔ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں اور ایک پیسہ کا بھی مطالبہ نہیں۔ہاں اگر دعا سنی جائے اور آپ کا کام ہو جائے۔تب فی الفور آپ کو نذر مقررہ بلاتاخیر ایک ساعت ادا کرنا ہوگا اور دو نفل پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ عہد کرنا ہوگا اور بعد پختگی عہد بلاتوقف مجھے اطلاع دینا ہوگا۔مجھے یاد ہے کہ جب نظام الدین کے لئے میں نے دعا کی تب خواب میں دیکھا کہ ایک چڑا اُڑتا ہوا میرے ہاتھ میں آ گیا اور اس نے اپنے تئیں میرے حوالہ کر دیا اور میں نے کہا کہ یہ ہمارا آسمانی رزق ہے جیسا کہ بنی اسرائیل پر آسمان سے رزق اُترا کرتا تھا۔یہ بات خدا نے میرے دل میں ڈالی ہے۔دل تومانتا ہے کہ کچھ ہونہار بات ہے۔واللّٰہ اعلم۔والسلام ۵؍ جون ۱۹۰۶ء (ب) خاکسار مرزا غلام احمد