مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 298

کروں گا اور امید رکھتا ہوں کہ آخر دعاؤں کے بعد کوئی راہ آپ کے لئے نکل آئے گی۔بالفعل نرمی اور صبر اور رضا بقضا سے کام لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے  ۱؎ اور یہ بات ضروری ہے کہ آپ دوسرے بھائیوں کے جوشوں کی پیروی نہ کریں کیونکہ کہ ان کی زندگی غافلانہ ہے اور وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ابتلا آیا کرتے ہیں۔جب دیکھیں کہ ہر ایک راہ بند ہے اور سیدھی بات بھی الٹی ہوئی جاتی ہے۔تب لازم ہے کہ فی الفور عبودیت کا جامہ پہن لیں اور سمجھ لیں کہ خدا تعالیٰ کی آزمائش ہے۔عزت خدا کے ہاتھ میں ہے میں دنیا داری طریقوں کی عزت کو پسند نہیں کرتا۔میں تو اس میں بھی مضائقہ نہیں دیکھتا کہ نذریں دی جائیں اور رعایا کہلایا جائے۔دنیا کی ہستی حباب کی طرح ہے۔معلوم نہیں کہ کل کون زندہ ہوگا اور کون قبر میں جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب واقعہ حدیبیہ کے وقت کفار مکّہ سے صلح کرنے لگے تو صلح نامہ کے سر پر لکھا ھذا من محمد رسول اللّٰہکفار مکّہ نے کہا کہ رسول اللہ کا لفظ کاٹ دو۔اگر ہم آپ کو رسول جانتے تو اتنے جھگڑے کیوں ہوتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو فرمایا کہ ’’اچھا رسول اللہ کا لفظ کاٹ دو‘‘ حضرت علی نے عرض کیا کہ میں تو ہرگز نہیں کاٹوں گا۔تب آپ نے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا۔پھر وہی لوگ تھے جو فتح مکّہ کے بعد ایمان لائے۔ہر یک بات وقت پر موقوف ہے۔(ب) نوٹ از مرتب: اس مکتوب کے پہلے صفحہ پر حضور کی ایک مہر بھی ثبت ہے جو مجھ سے پڑھی نہیں گئی۔بدر جلد ۲ نمبر۲۲ و الحکم جلد۱۰ نمبر۱۹ میں مرقوم ہے۔’’(۲) آفتوں اور مصیبتوں کے دن ہیں‘‘ ایک دوست کا ذکر تھا جس پر بہت سے دنیاوی مشکلات گر رہے ہیں۔فرمایا ’’یہ الہام اس کے متعلق معلوم ہوتا ہے‘‘ اور اس الہام کی تاریخ ۲۷؍ مئی ۱۹۰۶ء درج ہے۔گویا کہ یہ مکتوب ۲۸؍ مئی ۱۹۰۶ء کا ہے۔