مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 277
مکتوب نمبر۷۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میںاس کام میں بالکل دخل نہیں دیتا۔آپ کا کلّی اختیار ہے۔اس وقت مجھے وہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آتی ہے۔اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ۱؎۔اور سرمایہ لنگر خانہ کا یہ حال ہے کہ گھر میں دیکھتا ہوں کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ کچھ روپیہ نہیں دیا۔مگر ساتھ ہی ساتھ اس کاخرچ متفرق ہوتا رہا۔میرے پاس اس وقت شائد پانچ سوروپیہ کے قریب ہوگا جو لنگر خانہ کے لئے جمع تھے۔باقی سب خرچ ہوچکا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ابتلا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ روپیہ بہت جمع ہوتا ہے اور میرے پاس کچھ نہیں رہتا۔اگر کوئی ان اخراجات کا ذمہ وار ہو جو ہر ایک پہلو سے ہورہے ہیں تو وہ اس روپیہ کو اپنے پاس رکھے تو مجھے اس رنج و بلا سے سبکدوشی ہو۔خواہ مخواہ تفرقہ طبیعت ہر وقت لگا رہتا ہے اور موجب آزار ٹھہرتا ہے۔