مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 278
کتوب نمبر۷۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔خدا تعالیٰ آپ کوان مشکلات سے نجات دے۔علاوہ اور باتوں کے میں خیال کرتا ہوں کہ جس حالت میں شدت گرمی کا موسم ہے اور بباعث قلّت برسات یہ موسم اپنی طبعی حالت پر نہیں اور آپ کی طبیعت پر سلسلہ اعراض اور امراض کا چلا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ درحقیقت بہت کمزور ا ور نحیف ہو رہے ہیںا ور جگر بھی کمزور ہے۔عمدہ خون بکثرت پیدا نہیں ہوتا۔تو ایسی صورت میں آپ کاشدائد سفر تحمل کرنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔کیوں اور کیا وجہ کہ آپ کے چھوٹے بھائی سردار ذوالفقار علی خاں صاحب جو صحیح اور تندرست ہیں۔ان تکالیف کاتحمل نہ کریں۔اگر موسم سرما ہوتا تو کچھ مضائقہ بھی نہ تھا۔مگر یہ موسم آپ کے مزاج کے نہایت ناموافق ہے۔جو مشکلات پیش آئی ہیں وہ بے صبری اور بے جا شتاب کاری سے دور نہیں ہو سکتیں۔صبر اور متانت اور آہستگی اور ہوش مندی سے ان کا علاج طلب کرنا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ آپ اس خطرناک موسم میں سفر کریں اور خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہو کر موجب شماتتِ اعداء ہوں۔پہلے سفر میں کیسی کیسی حیرانی پیش آئی تھی اور لڑکے کے بیمار ہونے سے کس قدر مصائب کا سامنا پیش آگیا تھا۔کیا یہ ضروری ہے کہ کمشنر کے پاس آپ ہی جائیں اور دوسری کوئی تدبیر نہیں۔غرض میری بھی یہی رائے ہے کہ یہ کاروبار آپ پر ہی موقوف ہے تو اگست اور ستمبر تک التوا کیا جائے اور اگر ابھی ضروری ہے تو آپ کے بھائی یہ کام کریں۔ڈرتا ہوں کہ آپ بیمار نہ ہوجائیں۔خط واپس ہے۔اس وقت مجھے بہت سردرد ہے۔زیادہ نہیں لکھ سکتا۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ‘