مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 202
درحقیقت یہ فتح عظیم ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ عبداللہ آتھم نے حق کی عظمت قبول کر لی اور سچائی کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے سزائے موت سے بچ گیا ہے۔اور اس کی آزمائش یہ ہے کہ اب اس سے ان الفاظ میں اقرار لیا جائے تا اس کی اندرونی حالت ظاہر ہو یا اس پر عذاب نازل ہووے۔میں نے اس غرض سے اشتہار دیا ہے کہ آتھم کو یہ پیغام پہنچایا جاوے کہ اللہ جلّشانہٗ کی طرف سے یہ خبر ملی ہے کہ ُتو نے حق کی طرف رجوع کیا ہے۔اور اگر وہ اس کا قائل ہوجائے تو ہمارا مدّعا حاصل، ورنہ ایک ہزار روپیہ نقد بلاتوقف اس کو دیا جائے کہ وہ قسم کھاجاوے کہ میں نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا۔اور اگروہ اس قسم کے بعد ایک برس کے بعد (تک عرفانی) ہلاک نہ ہو تو ہم ہرطرح سے کاذب ہیں۔اور اگر وہ قسم نہ کھاوے تو وہ کاذب ہے۔آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ اگر تجربہ سے اس نے مجھ کو کاذب یقین کر لیاہے اور وہ اپنے مذہب پر قائم ہے تو قسم کھانے میں اس کا کچھ بھی حرج نہیں۔لیکن اگر اس نے قسم نہ کھائی اور باوجودیکہ دو کلمہ کے لئے ہزار روپیہ اس کے حوالے کیا جاتا ہے۔اگر وہ گریز کر گیا تو آپ کیا سمجھیں گے؟ اب وقت نزدیک ہے۔اشتہار آئے چاہتے ہیں۔میں ہزار روپیہ کے لئے متردّد تھاکہ کس سے مانگو۔ایسا دیندار کون ہے جو بلاتوقف بھیج دے گا؟ آخر میں نے ایک شخص کی طر ف لکھا ہے اگر اس نے دے دیا تو بہتر ہے ورنہ یہ دنیا کی نابکار جائیداد بیچ کر خود اس کے آگے جاکر رکھوں گا تا کامل فیصلہ ہو جائے اور جھوٹوںکا منہ سیاہ ہو جائے۔اور خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اس جماعت پرایک ابتلا آنے والا ہے۔تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اورکون کچا ہے اور اللہ جلّشانہٗ کی قسم ہے کہ میرے دل میں اپنی جماعت کا انہیں کے فائدہ کے لئے جوش مارتا ہے۔ورنہ اگر کوئی میرے ساتھ نہ ہوتو مجھے تنہائی میں لذّت ہے۔بے شک فتح ہو گی، اگر ہزار ابتلا درمیان ہو تو آخر ہمیں فتح ہو گی۔اب ابتلائوں کی نظیر آپ مانگتے ہیں۔ان کی نظیریں بہت ہیں۔آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے بادشاہ ہونے کا جو وعدہ کیا اور وہ ان کی زندگی میں پورا نہ ہوا۔تو ستّر آدمی مرتد ہو گئے۔حدیبیہ کے قصہ میں تفسیر ابنِ کثیر میں لکھا ہے کہ کئی سچے آدمی مرتد ہو گئے، وجہ یہ تھی کہ اس پیشگوئی کی کفارِ مکہ کو خبر ہو گئی تھی اس لئے انہوں نے شہر کے اندر داخل نہ ہونے دیا اور صحابہ پانچ چھ ہزار سے کم نہیں تھے۔یہ امر کس قدر معرکہ کا امر تھا مگر خدائے تعالیٰ نے صادقوں کو بچایا۔مجھے اور میرے خاص دوستوں کو آپ کے