مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 203
اس خط سے اس قدر افسوس ہو ا کہ اندازہ سے زیادہ ہے۔یہ کلمہ آپ کا کہ مجھے ہلاک کیا ،کس قدر اس اخلاص سے دور ہے جو آپ سے ظاہر ہوتا رہا۔ہمارا تو مذہب ہے کہ اگر ایک مرتبہ نہیں کروڑ مرتبہ لوگ پیش گوئی نہ سمجھیں۔یا اس رات کے طور پر ظاہر ہو تو خدا تعالیٰ کے صادق بندوں کا کچھ بھی نقصان نہیں۔آخر وہ فتح یاب ہو جاتے ہیں۔میں نے اس فتح کے بارے میں لاہور پانچ ہزار اشتہار چھپوایا ہے اور ایک رسالہ تالیف کیا ہے۔جس کانام انوارالاسلام ہے۔وہ بھی پانچ ہزار چھپے گا۔آپ ضرور اشتہار اور رسالہ کو غور سے پڑھیں۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو آپ کو اس سے فائدہ ہوگا۔ایک ہی وقت میں اور ایک ہی ڈاک میں آپ کا خط اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کاخط پہنچا۔مولوی صاحب کا اس صدق اور ثبات کا خط جس کو پڑھ کر رونا آتا تھا۔ایسے آدمی ہیں جن کی نسبت میں یقین رکھتا ہوں کہ اِس جہاں میں بھی میرے ساتھ ہوں گے اور اُس جہاں میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ:۔اس خط پر کوئی تاریخ نہیں اور لفافہ بھی محفوظ نہیں۔تاہم خط کے مضمون سے ظاہر ہے کہ ستمبر ۱۸۹۴ء کاخط ہے۔حضرت نواب صاحب نے جس جرأت اور دلیری سے اپنے شکوک کو پیش کیا ہے۔اس سے حضرت نواب صاحب کی ایمانی اور اخلاقی جرأت کا پتہ لگتا ہے۔انہوںنے کسی چیز کو اندھی تقلید کے طور پر ماننا نہیں چاہا۔جو شبہ پید اہوا اس کو پیش کر دیا۔خدائے تعالیٰ نے جو ایمان انہیں دیا ہے وہ قابل رشک ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کا ا جر انہیں یہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسبت فرزندی کی عزت نصیب ہوئی۔یہ موقعہ نہیں کہ حضرت نواب صاحب کی قربانیوں کا میں ذکر کروں جو انہوںنے سلسلہ کے لئے کی تھیں۔بہت ہیں جن کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور وہ ان کو اخلاقی جرأت کی کمی کی وجہ سے اُگل نہیں سکتے۔مگر نواب صاحب کو خدا تعالیٰ نے قابل رشک ایمانی قوت اور ایمانی جرأت عطا کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر کسی