مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 201
نوٹ از مرتب: مجھے اس کی نقل دیکھنے کا موقعہ ملا ہے جس پر مرقوم ہے کہ اصل مکتوب جس جس جگہ دریدہ ہے وہاں نقطے ڈال دئے گئے ہیں۔اس الہام کوخاکسار ہی کو پہلی بار شائع کرنے کی توفیق ملی ہے اس سے قبل لٹریچر میں موجود نہ تھا فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔الہام کے بعد جو حصہ مکتوب کا دریدہ ہے وہ الہام کے ترجمہ کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے۔٭٭٭ مکتوب نمبر۱۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاعنایت نامہ مجھ کو آج کی ڈاک میں ملا۔آتھم کے زندہ رہنے کے بارے میں میرے دوستوں کے بہت خط آئے۔لیکن یہ پہلا خط ہے جو تذبذب اورتردّد اور شک اور سُوئِ ظن سے بھرا ہوا تھا۔ایسے ابتلا کے موقعہ پر جو لوگ اصل حقیقت سے بے خبر تھے جس ثابت قدمی سے اکثر دوستوں نے خط بھیجے ہیں۔تعجب میں ہوں کہ کس قدر سوز یقین کا خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا اوربعض نے ایسے موقعہ پر نئے سرے بیعت کی، اس نیت سے کہ تا ہمیں زیادہ ثواب ہو(ان دوبارہ بیعت کرنے والوں میں چودہری رستم علی رضی اللہ عنہ کا نام مجھے معلوم ہے۔عرفانی) بہرحال آپ کا خط پڑھنے سے اگرچہ آپ کے ان الفاظ سے بہت ہی رنج ہوا جن کے استعمال کی نسبت ہرگز امید نہ تھی۔لیکن چونکہ دلوں پر اللہ جلّشانہٗ کا تصرّف ہے اس لئے سوچا کہ کسی وقت اگر اللہ جلّشانہٗ نے چاہا تو آپ کے لئے دعا کی ہے۔نہایت مشکل یہ ہے کہ آپ کو اتفاق ملاقات کا کم ہوتا ہے اور دوست اکثر آمد ورفت رکھتے ہیں۔کتنے مہینوں سے ایک جماعت میر ے پا س رہتی ہے۔جو کبھی پچاس، کبھی ساٹھ اور کبھی سَو سے بھی زیادہ ہوتے ہیںا ورمعارف سے اطلاع پاتے رہتے ہیں۔اور آپ کا خط کبھی خواب خیال کی طرح آجاتا ہے اور اکثر نہیں۔اب آپ کے سوال کی طرف توجہ کر کے لکھتا ہوں کہ جس طرح آپ سمجھتے ہیں،ایسا نہیں۔بلکہ