مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 200

دعائیں کی جائیں۔مجھے ایسا الہام کسی امر کی نسبت ہو تو میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ وہ ہونے والا ہے۔اللہ جلّشانہٗ طاقت سے زیادہ کسی پر بار نہیں ڈالتا بلکہ رحم کے طور پر تخفیف کرتا ہے اور ہنوز انسان پورے طور پر اپنے تئیں درست نہیں کرتا کہ اس کی رحمت سبقت کر جاتی ہے۔گویا نیک بندوںکے لئے یہ بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔چونکہ اللہ جل شانہ بے نیاز ہے، نہ کسی کی اس کو حاجت ہے اور نہ کسی کی بہتری کی اس کو ضرورت ہے۔اس لئے جب…… فرماتا ہے کہ کسی بندہ پر فیضانِ نعمت کرے تو ایسے وسائل پیدا کردیتا ہے جس کی رُو سے اس نعمت کے پانے کے لئے اس بندہ میں استحقاق پیدا ہو جائے۔تب وہ بندہ خدا تعالیٰ کی نظر میںجوہر قابل ٹھہر کر مورد رحم بننے کیلئے لیاقت پیدا کر لیتا ہے۔سو اس خیال سے بے دل نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کیونکر باوجود اپنی کمزوریوں کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اعمالِ صالحہ بجا لا سکتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کو راضی کر سکیں اورہرگزخیال نہیں کرنا چاہئے کہ ایسی شرط تعلیق بالمحال ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو جن کیلئے خیر کا ارادہ فرماتا ہے آپ توفیق دے دیتا ہے۔مثل مشہور ہے۔ہمتِ مرداں مددِ خدا۔سو نیک کاموں کیلئے بدل وجان جہاں تک طاقت ہے متوجہ ہوناچاہئے۔خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز اور ہر ایک حال اور ہر یک شخص پر مقدم رکھ کر نماز باجماعت پڑھنی چاہئے کہ قرآن کریم میںبھی جماعت کی تاکید ہے۔اگر بانفراد نماز پڑھنا کافی ہوتا تو اللہ جلّشانہٗ یہ دعا نہ سکھلاتا کہ  ۱؎ بلکہ یہ سکھاتا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ۲؎ … مَعَ الرَّاکِعِیْنَ اور ۳؎ ان تمام آیات میں جماعت…… سو اللہ جلّشانہٗ کے احکام میں کسی سے شرم نہیںکرنا چاہئے۔تقویٰ کے یہ معنی ہیں کہ اس …… قائم ہو جائے کہ پھر اس کے مقابل پر کوئی ناموس یا ہتک یاعار یا خوفِ خلق یا کسی کے لعن و طعن کی کچھ حقیقت نہ رکھے۔ایمان تقویٰ کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری چیز کو یا کسی دوسرے خیال کو کچھ حقیقت سمجھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ تقویٰ کے شعار سے بالکل بے بہرہ ہوتا ہے۔ہمارے لئے کامل خدا بس ہے۔والسلام ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ء مرزا غلام احمد