مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 557 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 557

اور ثقل تھا وہ دور ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ ملائک سے تشبیہ پیدا کر لیتا ہے اور یہ حالت ملکوتی حالت ہے اور اس حالت میں سالک کا اَکل و شرب اور ہر یک مابہ الاحتظاظ امر سے وابستہ ہوتا ہے یعنی ہوا و ہوس کی اتباع سے بکلّی رستگار ہو جاتا ہے اور وہی بجا لاتا ہے جس کے بجا لانے کے لئے شرعاً یا الہاماً مامور ہو۔اور پھر بعد اس کے حالت چہارم ہے جس کو لاہوتی حالت سے تعبیر کرنا چاہئے اور جب سالک اس حالت تک پہنچایا جاتا ہے تو صرف یہی بات نہیں کہ اپنے ہوا و ہوس سے خلاصی پاتا ہے بلکہ بکلّی اپنے ہوا و ہوس سے اور نیز اپنے ارادہ سے محو ہو جاتا ہے۔تب انسان خدا کے ہاتھ میں ایساہوتا ہے جیسا مُردہ بدست زندہ ہوتا ہے اور الوہیّت اس فانی پر اپنی تجلیات تامہ ڈالتی ہے اور ارادات ربّانی علی وجہ البصیرت اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے صاحبِ علم صحیح ہوتا ہے اور ہر یک ابتلا اور آزمائش سے باہر آ جاتا ہے اور یہ مرتبہ ملائک سے برتر ہے۔ملائک کو یہ حالت چہارم جو غلبۂِ عشق سے پیداہوتی ہے عطا نہیں ہوتی۔یہ خاص انسان کے حصہ میں آئی ہے۔ ۱؎ اور جیسی بصیرت کاملہ ایسی حالت سے مخصوص ہے۔ایسا ہی صلاحیت کاملہ بھی اسی حالت سے وابستہ ہے کیونکہ پہلی حالتیں میں نقصان علمی و عملی سے خالی نہیں ہیں بلکہ نقصان علمی و عملی ان کے لازم حال پڑا ہوا ہے کیونکہ خدا میں اور اُن میں اپنا وجود حائل ہے۔بس وہی وجود ایک حجاب بن کر علم اور اخلاص کے ناقص رہنے کاموجب ہے لیکن حالت چہارم میں وجود بشری بکلّی اُٹھ جاتا ہے اور کوئی حجاب درمیان میں نہیں رہتا اور اس حالت میں عارف کااَکل و شرب اور ہر ایک مابہ الاحتظاظ اُس کے شعور اور ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پودے کی طرح بے حس و حرکت ہے اور مالک جب مناسب دیکھتا ہے تو اُس کی آبپاشی کرتا ہے۔اُس کو اس طرف خیال بھی نہیں آتا کہ میں کیا کھاؤں گا اور کیا پیوں گا اور جیسے ایک بے ہوش کو خواہ کوئی لات مار جائے۔خواہ پیار دے جائے۔یکساں ہوتا ہے ایسا ہی وہ جامِ عشق سے مست ومدہوش ہے اور اپنے نفس کے انتظاموں سے فارغ ہے۔سو جیسے مادر مہربان اپنے نادان بچے کو وقت پر آپ دودھ پلاتی ہے اور اس کی بالشت نابالشت کی آپ خبر رکھتی ہے ایسا ہی خداوندکریم اس ضعیف اور عاجز بشر کا کہ جو اس کی محبت کے سخت جذبہ سے یکبارگی اپنے وجود سے اور اُس کے ۱؎؎؎ المائدۃ: ۵۵