مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 558

نفع و نقصان کے فکر سے کھویا گیا ہے آپ متولی ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اس کے دوستوں کا آپ دوست اور اُس کے دشمنوں کا آپ دشمن بن جاتا ہے اور جو کچھ اُس کو اپنے دوستوں اور دشمنوں سے معاملہ کرنا چاہئے تھا وہ اُس کی جگہ آپ کرتا ہے۔غرض اُس کے سب کاموں کو آپ سنبھالتا ہے اور اُس کی سب شکست ریخت کی آپ مرمت کرتا ہے اور وہ درمیان نہیں ہوتا اور نہ کسی بات کا خواستگار ہوتا ہے اور یہ جو صفحہ۲۳۰ کے سر پر یہ عبارت ہے۔فَیَا کُلُ بِالْاَمْرِ یعنی تیسری حالت کا سالک امر حق کے ساتھ کھاتا ہے اور پھر صفحہ۲۳۱ میں حالت چہارم کے مقرب کی نسبت بھی لکھا ہے۔فَیُقَالُ لَہٗ تَلَبَّس بِالنّعَمِ وَالْفَضْلِ یعنی اس کو بھی کھانے پینے کے لئے امر ہوتا ہے تو ان دونوں امروں میں فرق یہ ہے کہ حالت سیوم میں تو سالک کے نفس میں ارادہ مخفی ہوتا ہے اور اس کا یہ مشرب ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں حظّ کے اُٹھانے کے لئے مجھ کو اجازت فرما وے تو میں اس کو اُٹھاؤں گا اور گو وہ اتباعِ نفس سے پاک کیا جاتا ہے لیکن متابعت امر کے پیرایہ میں وہ حظّ حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ بقایا نفس کے ابھی موجود ہوتے ہیں۔مگر حالت چہارم میں مقرب کامل کی طرف سے بالکل ارادہ نہیں ہوتا۔خود خدا تعالیٰ بطور تلطّف و احسان کے کسی مابہ الاحتظاظ کو اُس کیلئے میسر کرد یتا ہے اور جیسے مادرِ مہربان اپنے بچے کو جگا کر دودھ پینے کی ہدایت کرتی ہے ویسا ہی وہ اس کوجگا کر کسی حظّ کے اُٹھانے کیلئے تحریک کرتا ہے۔سو وہ تحریک سراسر اُسی کی شفقت سے اور فضل اور عنایت سے ہوتی ہے۔٭ ۳۰؍ اگست ۱۸۸۳ء مطابق ۲۶؍ شوال ۱۳۰۰ھ ٭…٭…٭ ٭ الحکم ۱۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء صفحہ۳،۴