مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 556
طور پر توبہ کا سامان اس کے لئے میسر کر دیتا ہے۔باطنی طور پر یہ کہ یک بیک ایک جذبہ قویہ خداوندکریم کی طرف سے اس کے شاملِ حال ہو جاتا ہے اور وہی جذبہ درحقیقت واعظ باطنی ہے اور اُسی سے فسق و فجور کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور انسان اپنے نفس میں قوت پاتا ہے کہ تا نفسِ امّارہ کی پیروی سے دستکش ہو جائے اور اگرچہ پہلے اس سے ایک اور کمزور جیسا واعظ بھی انسان کے نفس میں موجود ہے جس کو لِمَّۃُ المَلَک سے تعبیر کرتے ہیں اور وہ بھی نیکی کے لئے سمجھاتا رہتا ہے اور نیک کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ اچھا کام کیا ہے اور بَد کام کرنے پر فی الفور گواہی دیتا ہے کہ تو نے یہ بَد کام کیا ہے۔یہاں تک کہ چور چوری کرنے کے بعد اور زانی زنا کرنے کے بعد اور خونی خون کرنے کے بعد کبھی کبھی باوجود اُن سخت پردوں کے اُس لِمَّۃُ المَلَککی آواز سن لیتا ہے۔یعنی اُس کا دل فی الفور اُسے کہتا ہے کہ یہ تو نے اچھا کام نہیں کیا۔بُرا کیا ہے لیکن چونکہ یہ ضعیف واعظ ہے اس لئے اُس کا وعظ اکثر بے فائدہ جاتا ہے اور اگرچہ اس کے ساتھ کوئی واعظ ظاہر بھی مل جائے یعنی کوئی صالح انسان نصیحت بھی کرے تب بھی کچھ کار براری کی امید نہیں کیونکہ نفس سخت اژدھا ہے کمزوروں سے وہ قابو میں نہیں آتا اور اگر کچھ مغلوب بھی ہو جاتا ہے تو صرف اسی قدر کہ عارضی اور بے بنیاد توبہ کرتا ہے اور حقیقی سعادت کی تبھی نسیم چلتی ہے کہ جب جذبہ الٰہی شاملِ حال ہو۔سو کامل واعظ جو باطنی طور پر بھیجا جاتا ہے جذبہ ہے اور ظاہری طور پر توبہ کا یہ سامان میسر ہو جاتا ہے کہ کسی صالح کی صحبت میسر آ جاتی ہے اور فسق و فجور کے مہلک زہر سے اطلاع ہو جاتی ہے۔سو یہ دونوں مل کر چکی کے دو پاٹ کی طرح نفس امّارہ کو پیس ڈالتے ہیں اور بجبرواکراہ معاصی اور فسق فجور سے جدا کرتے ہیں۔سو یہ دوسری حالت ہے کہ جو ترقیات قرب کی راہ میں سالک کو پیش آتی ہیں اور دوسرے لفظوں میں اس حالت کا نام جبروتی حالت ہے کیونکہ وہ جبر اور اِکراہ کے ساتھ نفسانی خواہشوں سے باہر آتا ہے اور جذبہ باطنی اپنے طور پر اور واعظ ظاہری اپنے طور پر اُس پر جبر کرتا ہے اور مالوفات نفسانیہ سے سختی اور درشتی کے طور پر الگ کر دیتے ہیں۔پھر جب اُس پر عنایتِ الٰہیہ اس کو قائم کر دیتی ہے تو اس کے لئے خدا کے حکموں پر چلنا اور اس کی نہی سے پرہیز کرنا آسان کیا جاتا ہے اور شوق اور ذوق اور اُنس سے اُس کو حصہ دیا جاتا ہے۔پس وہ اس جہت سے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری بلاتکلّف اس سے صادر ہوتی ہے اور جو حالتِ دوم میں بوجھ