مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 528

پیرایوں اور تمثیلات میں بیان فرمایا ہے۔مسلم نے انس سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب دیکھی کہ عقبہ بن رافع کے گھر کہ جو ایک صحابی تھا آپ تشریف رکھتے ہیں۔اُسی جگہ ایک شخص ایک طبق رطب ابن طاب کا لایا اور صحابہ کو دیا اور رطب ابن طاب ایک خرما کا قسم ہے کہ جس کو ابن طاب نام ایک شخص نے پہلے پہل کہیں سے لا کر اپنے باغ میں لگایا تھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ تعبیر کی کہ دنیا و آخرت میں صحابہ کی عاقبت بخیرو عافیت ہے اور حلاوتِ ایمان سے وہ خوشحال اور متمتع ہیں۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کے لفظ سے عاقبت کار نکالا اور رافع خدا کا نام ہے۔اُس سے رفعت کی بشارت سمجھ لی اور خرما کی حلاوت سے حلاوتِ ایمانی لی اور ابن طاب میں طاب کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خوشحال ہوا۔پس اس سے خوشحال ہونے کی بشارت سمجھ لی۔غرض تعبیر رؤیا میں ایسی تاویلات واقعی اور صحیح ہیں اور آپ کی خواب بہت ہی عمدہ بشارت ہے۔محافظ دفتر کے لفظ سے یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان حاکم یا بادشاہ کا ایک جگہ خیمہ لگا ہوا ہے اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہورہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا ہے اور جیسے دفتروں میں مسلیں ہوتی ہیں، بہت سی مسلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ دفتر کی طرح ہے۔اتنے میں ایک اردلی دوڑا آیا کہ مسلمانوں کی مسل پیش ہونے کا حکم ہے وہ جلد نکالو۔پس یہ رؤیا بھی دلالت کر رہی ہے کہ عنایاتِ الٰہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے کہ اُس قوتِ ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئے ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنی خاص برکات سے متمتع کرے گا کہ ہر ایک برکت ظاہری اور باطنی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔اس عاجز نے پہلے لکھ دیا تھا کہ آپ اپنے تمام اَوْرَادِ معمولہ کو بدستور لازم اوقات رکھیں۔صرف ایسے طریقوں سے پرہیز چاہئے جن میں کسی نوع کا شرک یا بدعت ہو۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آ کر پڑھنا ثابت ہے لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا عین سنت ہے۔۱؎ مکرمی مخدومی مولوی عبدالقادر صاحب