مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 529 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 529

کی خدمت میں اس عاجز کا سلام مسنون پہنچا ویں۔خداوندکریم کا ہر ایک شخص سے الگ الگ معاملہ ہوتا ہے اور ہر ایک بندہ سے جس طور کا معاملہ ہوتا ہے اسی طور سے اُس کی فطرت بھی واقع ہوتی ہے۔اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تفویض الی اللہ غالب ہے۔اور معاملہ حضرت احدیّت بھی یہی ہے کہ خود روی کے کاموں سے سخت منع کیا جاتا ہے۔یہ مخاطبت حضرت احدیّت سے بارہا ہو چکی ہے ’’ٌ۱؎ ‘‘۔۲؎ سو چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوندکریم کی طرف سے کچھ علم نہیں۔اس لئے تکلّف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں۔۔۳؎ مولوی صاحب اخوت دینی کے بڑھانے میں کوشش کریں اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودہ کی پرورش میں مشغول رہیں۔تو یہی طریق اِنْ شَآئَ اللّٰہ تعالٰی بہت مفید ہوگا۔خلقتم من نفس واحدۃ جزاء البدن مستفیض لما استفاض البدن کلہ وکونوامع الصادقین ھم قوم لایشقٰی جلیسھم۔والسلام۔بخدمت خواجہ علی صاحب سلام علیکم۔ابھی مولوی صاحب کا اس جگہ تشریف لانا بے وقت ہے۔یہ عاجز حصہ چہارم کے کام سے کسی قدر فراغت کر کے اگر خدا نے چاہا اور نیت صحیح میسر آ گئی تو غالباً امید کی جاتی ہے کہ آپ ہی حاضر ہوگا والامر کلہ فی یداللّٰہ وما اعلم ما ارید فی الغیب۔٭ مکتوب نمبر۱۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آن مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔خداوندکریم کا کیسا شکر کیا چاہئے کہ اُس نے اپنے تفضّلاتِ قدیم سے آپ جیسے دلی دوست بہم پہنچائے۔اگرچہ آپ کا اخلاص کامل اس درجہ پر ہے کہ اس عاجز کا دل بلااختیار آپ کی دعا کیلئے کھینچا چلا جاتا ہے۔پر جس ذات قدیم نے آپ کو یہ اخلاص بخشا ہے اُس نے خود آپ کو چُن لیا ہے۔تب ہی یہ اخلاص بخشا ہے۔۴؎ بخدمت مخدومی مولوی عبدالقادر صاحب بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سمجھا ہے