مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 28
مکتوب نمبر۴ مکرمی جناب پنڈت صاحب آپ کا عنایت نامہ عین انتظار کے وقت میں پہنچا۔کمال افسوس سے لکھتا ہوں جو آپ کوتکلیف بھی ہوئی اور مجھ کوجواب بھی صحیح صحیح نہ ملا۔میرے سوال کا تو یہ ماحصل تھا کہ جبکہ ہماری نجات (کہ جس کے وسائل کا تلاش کرنا آپ کے نزدیک بھی ضروری ہے) عقائد حقّہ اور اخلاق صحیحہ اور اعمال حسنہ کے دریافت کرنے پر موقوف ہے کہ جن میں امور باطلہ کی ہرگز آمیزش نہ ہو تو اس صورت میں ہم بجز اس کے کہ ہمارے علوم دینیہ اور معارف شرعیہ ایسے طریق محفوظ سے لئے گئے ہوں جو دخلِ مفاسد اور منکرات سے بکلّی معصوم ہو اور کسی طریق سے نجات نہیں پا سکتے۔اس کے جواب میں اگر آپ وضع استقامت پر چلتے اور دابِ مناظرہ کو مرعی رکھتے تو از روئے حصر عقلی کے جواب آپ کا (در حالت انکار) صرف تین باتوں میں سے کسی ایک بات میں محصور ہوتا۔اوّل یہ کہ آپ سرے سے نجات کا ہی انکار کرتے اور اس کے وسائل کو مفقود الوجود اور ممتنع الحصول ٹھہراتے اور اس کی ضرورت کو چار آنکھوں کی ضرورت کی طرح صرف ایک طمع خام سمجھتے۔دوم یہ کہ نجات کے قائل ہوتے لیکن اُس کے حصول کے لئے عقائد اور اعمال کا ہر ایک کذب اور فساد سے پاک ہونا ضروری نہ جانتے بلکہ محض باطل یاامور مخلوطہ حق اور باطل کو بھی موجب نجات کا قرار دیتے۔سوم یہ کہ حصول نجات کو صرف حق محض سے ہی (جو امتزاجِ باطل سے بکلّی منزہ ہو) مشروط رکھتے اور یہ دعویٰ کرتے کہ طریقہ مجوزہ عقل کا حق محض ہی ہے اور اس صورت میں لازم تھا کہ بغرض اثبات اپنے اس دعویٰ کے ہمارے قیاس استقرائی کو (جو حجت کی اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم ہے جس کو مضمون سابق میں پیش کر چکے ہیں) کوئی نظیر معصوم عن الخطاء ہونے کسی عاقل کے پیش کر کے اور اس کے علوم نظریہ عقلیہ میں سے کوئی تصنیف دکھلا کر توڑ دیتے۔پھر اگر حقیقت میں ہمارا قیاس استقرائی ٹوٹ جاتا اور ہم اُس تصنیف کی کوئی غلطی نکالنے سے عاجز رہ جاتے تو آپ کی ہم پر خاصی ڈگری ہو جاتی۔مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہ کیا۔ہزاروں مصنفوں کا ذکر تو کیا مگر نام ایک کابھی نہ لیا