مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 29
اور نہ اس کی کسی عقلی نظیری تصنیف کا کچھ حوالہ دیا۔اب اس تکلیف دہی سے میری غرض یہ ہے کہ اگر الہام کی حقیت میں جناب کو ہنوز کچھ تامّل ہے تو بغرض قائم کرنے ایک مسلک بحث کے شقوق ثلاثہ متذکرہ بالا میں سے کسی ایک شق کو اختیار کیجئے اور پھر اس کا ثبوت دیجئے۔کیونکہ جب میں ضرورت الہام پر حجت قائم کر چکا تو از روئے قانون مناظرہ کے آپ کا یہی منصب ہے جو آپ کسی حیلہ قانونی سے اس حجت کوتوڑیں اور جیسا میں عرض کر چکا ہوں اس حیلہ انگیزی کے لئے آپ کے پاس صرف تین ہی طریق ہیں جن میں سے کسی ایک کو اختیارکرنے میں آپ قانونًا مجاز ہیں اور یہ بات خاطر مبارک پر واضح رہے کہ ہم کو اس بحث سے صرف اظہار حق منظور ہے۔تعصب اور نفسانیت جو سفہا کا طریقہ ہے ہرگز مرکوزِ خاطر نہیں۔میں دلی محبت سے دوستانہ یہ بحث آپ سے کرتا ہوں اور دوستانہ راست طبعی کے جواب کا منتظر ہوں۔راقم۔آپ کا نیاز مند ۵؍جون ۱۸۷۹ء غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکرمی جناب مرزا صاحب آپ کا عنایت نامہ مرقومہ پانچویں ماہ حال مجھے ملا۔نہایت افسوس ہے کہ میں نے آپ کے الہام کے بارے میں جو کچھ بطور جواب لکھا تھا اس سے آپ تشفی حاصل نہ کر سکے۔میرا افسوس اور بھی زیادہ بڑھتا جاتا ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے میرے جواب کے عدم تسلیم کی نسبت کوئی صاف اور معقول وجہ بھی تحریر نہیں فرمائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اُس کے پڑھنے اور سمجھنے میں غور اور فکر کو دخل نہیں دیا۔پھر آپ کے اس عنایت نامہ میں ایک اور لطف یہ موجود ہے کہ آپ ایک جگہ پر قائم رہتے معلوم نہیں ہوتے۔پہلے آپ نے الہام کی ضرورت اس دلیل کے ساتھ قائم کی کہ چونکہ انسان کی عقل حقیت کے معلوم کرنے میں عاجز ہے اور وہ اپنی تحقیقات میں خطا کرتی ہے پس ضرور ہے کہ انسان خدا کی طرف سے الہام پاوے۔میں نے جب آپ کی اس ضرورت کو فرضی ثابت کر دیا اور