مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 27

معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پاویں‘‘۔پس جس صورت میں آپ کی اس دلیل میں بھی ’’ضرورت‘‘ کا قیاس مثل ہماری دونوں دلیلوں کے ہے اور قوانین نیچر اس کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں تو پھر ایسا قیاس بجز فرضی اور وہمی ہونے کے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ ہم خود تو بات بات میں ایسی سینکڑوں ضرورتیں قائم کر سکتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خدا کی حکمت بھی ہماری فرضی ضرورتوں کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں؟ محققوں کے نزدیک وہی ضرورت ’’ضرورت‘‘ ہو سکتی ہے جس کو نیچر یا خدا کی حکمت نے قائم کیا ہو۔جیسے ہماری بھوک کے دفعیہ کیلئے غذا اور سانس لینے کیلئے ہوا کی ضرورت ہماری فرضی نہیں بلکہ نیچری ہے اور اسی لئے اُس کا ذخیرہ بھی انسان کی زندگی کیلئے اُس نے فراہم کر دیا ہے۔مگر جو ضرورت کہ نیچر کے نزدیک قابل تسلیم نہیں ہے اور اُسے خود ہم اپنے وہم سے قائم کرتے ہیں۔وہ ایک طرف جس طور پر محض فرضی ہوتی ہے دوسری طرف اُسی طور پر اُسے علت ٹھہرا کر جو نتیجہ قائم کرتے ہیں وہ بھی فرضی ہونے کے باعث واقعات کے ساتھ مطابق نہیں ہوتا ہے اور یہ صورت ہم نے اپنی مثالوں میں بخوبی ظاہر کر دی ہے۔دوم اس بات کی نسبت کہ آپ نے الہام کی تعریف میں جوکچھ عبارت رقم کی ہے اُس کا آپ کی دلیل سے کہاں تک ربط ہے۔اسی قدر لکھنا کافی ہے کہ جس حالت میں آپ نے اپنے الہام کی کل بنیاد جس ’’ضرورت‘‘ پر قائم کی ہے درحقیقت وہ ضرورت جبکہ خود بے بنیاد ہے یعنی نیچر کے نزدیک وہ ضرورت قابل تسلیم نہیں ہے تو پھر اگر یہ بھی مانا جاوے کہ جو عمارت آپ نے کسی اپنی بنیاد پر کھڑی کی ہے وہ اچھے مصالحہ کے ساتھ بھی تعمیر کی ہے تا ہم وہ بے بنیاد ہونے کے باعث بجزوہم کے اور کہیں نہیں ٹھہر سکتی اور جیسے اس کی بنیاد فرضی ہے ویسے ہی وہ بھی آخر کار فرضی رہتی ہے۔الہام کے اس غلط عقیدہ کے باعث دنیا میں لوگوں کو جس قدر نقصان پہنچا ہے اور جس قدر خرابیاں برپا ہوئی ہیں اور انسانی ترقی کو جس قدر روک پہنچی ہے اس کے ذکر کرنے کو اگرچہ میرا دل چاہتا ہے مگر چونکہ امر متناقضہ سے اُس کا اس وقت کچھ علاقہ نہیں ہے لہٰذا اس کابیان یہاں پر ملتوی رکھتا ہوں۔آپ کا نیاز مند لاہور۔۳؍ جون ۱۸۷۹ء شیونرائن۔اگنی ہوتری