مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 26
طوفان کے آنے کی اس قدر عرصہ پہلے سے خبر دیتا رہے کہ جس سے ہمیں اپنے اور اپنے جہاز کے بچانے کا موقع مل سکے۔اب ظاہر ہے کہ جو لوگ حقیقت کے سمجھنے کا کافی ملکہ رکھتے ہیں اور منطق کے اصول کا بخوبی علم رکھتے ہیں وہ ہماری ان دونوں دلیلوں کو قطعی لنگڑی اور بے بنیاد خیال کریں گے کیوں؟ اس لئے کہ اوّل دونوں دلیلوں میں ’’ضرورت‘‘ کا جو کچھ قیاس قائم کیا گیا ہے جسے ہم نے اپنے نتیجہ کی علّت قرار دیا ہے وہ محض ہمارا ایک وہمی اور فرضی قیاس ہے، قوانین نیچر سے اُس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ ہم اُلٹا قوانین نیچر کو پس انداز کر کے خدا کی خود دانائی پر حاشیہ چڑھاتے ہیں۔دوم چونکہ ہماری علّت فرضی ہوتی ہے پس اس سے جو نتیجہ ہم قائم کرتے ہیں وہ بھی فرضی ہوتا ہے اور واقعات نیچری خود اُس کی تردید کرتے ہیں۔چنانچہ جیسی پہلی مثال کے متعلق ہمارا نتیجہ واقعات کے خلاف ہے اور درحقیقت انسان کے سر کے پیچھے دو آنکھیں اور زائد قائم نہیں کی گئیں ہیں۔دوسری مثال میں بھی ویسے ہی باوجود اس کے کہ سینکڑوں جہاز آج تک سمندر میں غرق ہو چکے ہیں اور ہزاروں اور لاکھوں جانیں اُن کے ساتھ ضائع ہو چکی ہیں مگر آج تک خدا نے کسی جہاز والے کے پاس کوئی نج کا پیغام اس قسم کا نہیں بھیجا جس کا دوسری مثال میں ذکر ہوا ہے۔پس دونوں صورتوں میں ہماری ’’ضرورت‘‘ کا قیاس خدا کی دانائی یا قوانین قدرت کے موافق نہ تھا اس لئے اس کا نتیجہ بھی خدا کی حکمت کے خلاف ہونے کے باعث نیچر کے واقعات سے تصدیق نہ پا سکا اور محض فرضی ثابت ہوا۔اب صاف ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے الہام کی ضرورت پر جو دلیل پیش کی ہے وہ بجنسہٖ ہماری دونوں دلیلوں کے متشابہ ہے۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی٭ سے بچ سکتے اور نہ خدا (جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو اور خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کس طرح آفات شک و شبہ سے نجات پائیں۔لہٰذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضائے حکمت اور رحمت اوربندہ پروری اس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقّہ کے جاننے اور اخلاقِ صحیحہ کے ٭ کل حالتوں میں انسان ’’اپنے علم اور واقفیت‘‘ میں غلطی نہیں کرتا۔ایڈیٹر برادر ہند