مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 404

درپے واسطہ حاصل کرنے پیشگوئیوںکے پھرتے رہتے ہیں اور اس وقت کچھ لحاظ اتباعِ سنّت ہونے یا نہ ہونے اس شخص کا نہیں کرتے بلکہ خلاف مذہب کے ایسے لوگوں پر خیال نہیں کرتے۔جب ہم ایام گزشتہ میں جس کو سو برس نہیں گزرے جن کے دیکھنے والے اب تک موجود ہیں۔خاندان شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اور ان کی اولاد سیّد احمد صاحب مرحوم بریلوی کو دیکھ سن چکے ہیں اور ان کی کتابوں کو معائنہ کر چکے ہیں اور اس میں اس قسم کے الہامات ان کے پڑھ چکے ہیں پھر ہم اب کسی شخص پر انکار نہ کریں جن پر اس قسم کے حالات وارد ہوں اور معلوم ہوں کیونکر انکار کے مستحق ہوسکتے ہیں۔جب عموماً اس خاندان کی افضلیت اور باکمال ہونے کے قائل ہیں۔یہ قائل ہونا خاص کسی پر منحصر نہیں۔اہل اسلام ہندوستان کیا، اہلِ ہنود بھی تعریف اور توصیف سے یاد کرتے ہیں اور اعتقاد اپنا جتلاتے ہیں۔اس عاجز نے جب سے ہوش پائی ہے اسی خاندان کو اپنا پیشوا گردانا ہے۔اگرچہ بزرگان عاجز کے بھی ایسا خیال کرتے رہے اور محبت پوری بجا لاتے رہے۔ان کی تصنیفات اور تالیفات جہاں تک ممکن ہوئی مطالعہ کرتا رہا ہے اور جو ان کے خاندان کاآدمی مل سکا ان سے صحبت کا فیض حاصل کرتا رہا ہے اور اقوال پسندیدہ اور افعال حمیدہ کو ذہن نشین کر کے اس زمانہ کے اشخاص واعظ اور علماء کے اقوال افعال کے قبول کرنے کے لئے انہیں کو معیارمقرر کیا ہے چونکہ آپ کی کتاب جو مطالعہ کی گئی ہے اسے ان کے طریقہ اور خیالات دینی سے متفق پایا اس واسطے اس کو ملنا اور تحسین آفرین کی صدا دل سے بلندہوئی ہے اورآپ کے اقوال کو معتبر تصور کرتا ہوں۔جو زبانی مولوی عبدالقادر خلف عبداللہ لودیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کو مولوی سید احمد صاحب نے جو دیوبند کے قریب رہتے ہیں، جواں صالح فرمایا، ان کی درخواست پر توجہ نہیں فرمائی۔اس سے بھی مجھ کو آپ کی تصدیق کی تقویت ملی ہے کہ وہ لوگ بھی صاحب ظاہر و باطن ہیں اور ان کا خاندان بھی ہندوستان میں لاثانی ہے۔ان پر انوار الٰہی کا اثر پایا جاتا ہے۔یہ بھی ظاہر کرنا کچھ نقص نہیں معلوم ہوتا کہ میں اپنے حال پر اور اہل دین کے خیالات پر جو بندہ کو معلوم ہوئے ہیں کہ جو عموماً حالات مخالفان زمانہ دیکھ سن کر فکر کرتے ہیں تواس وقت ایسے سوالات دل میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے جوابات بھی اس وقت پیدا ہو جاتے ہیں جس کو آپ نے بشرح اور مفصل