مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 403
دین کی طرف لے جاتی ہے۔وہ خیالات جو دین اور اہل دین سابقین اوّلین اور متاخرین اورمحققین کی جانب سے بہ جبر منہ پھیرے دیتے ہیں اور شکوک اور تو ہمات دین اور قرآن شریف اور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر شیاطین اور دجّالان سے کسی کے دل میں کسی وقت پید ا ہوتے ہیں ان کی بڑے زور شورسے بیخ کنی کرتی ہے اور انوار او ر برکات کے نزول کاسبب ہوتی ہے۔اس زمانہ میں جو مذاہب باطلہ اور اعتقادات ناحقّہ نے بسبب میسر ہو جانے اور پڑھائے جانے علم منطق اور فلسفہ اور ریاضی وغیرہ کے مخالف دین متین کے عموماً رواج اور شہرت پا کر مسلمانوں کے دلوں پر اثر کر کے حقیقت دین اسلام اور قرآن شریف پر پردہ ڈال رہے ہیں اور نیچری اور عیسائی اور آریہ سماج اور دھرم سماج مقابلہ پر کھڑے ہو گئے ہیں اور مسلمانوں میں نادانی اور بے علمی اور مفقود ہونے وجود علماء راستین کے سبب سے مخالفین کی لغویات نے زور ڈال دیا ہے۔ضرور تھا اور لازمی تھا کہ خد اتعالیٰ کسی ایسے شخص کو واسطہ محافظت اپنے دین حق کی کرتا۔جو مخالفین کامن کل الوجوہ مقابلہ کرتا اور عام خاص کو تزلزل سے بچاتا۔سو شکر ہے خداوند کریم رحمن و رحیم کا کہ ہندوستان میں آپ کی ذات کو یہ شرف دیا اور اپنے نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ایسے نازک وقت میں، کہ جب ان کی دنیا میں کہیں نہ حکومت باقی ہے نہ ثروت نہ قدر ومنزلت۔ملک پر ہر جگہ ذلیل نظر آتے ہیں، تقویت بخشی۔دعا ہے اسی سے جو سب کا خالق اور حاکم ربّ العالمین ہے کہ آپ کے الہامات کے منشاء اور اثر کو جیسے اس کی مرضی ہے پورا کرے۔ہندوستان میں اس وقت اور ملکوں سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔سو شکر ہے ایسے ہندوستان میں آپ کو شرف دیا۔جو آپ نے اپنی کتاب کے متن اور حاشیوں میں حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم و قرآن شریف کے باب میں درج فرمایا ہے۔اس میں کوئی مسلمان جاہل اور عالم سوائے اٰمَنَّا اور صدقنا کے زبان پر نہیںلا سکتا۔ہاں وہ زبان کھولے جس کو دین اسلام سے ظاہر و باطن میں مس نہ ہو اور شرم وحیاء بھی نہ ہو۔البتہ جن اشخاص کو حسد و تکبر غالب ہوگا۔وہ آپ کے الہامات اور پیشگوئیوں پراعتراض کریں گے مگر اس عاجز کے خیال میں نہیں آتا وہ ایسا کیوں خیال کرتے ہیں یا کریں گے۔جب گزشتہ اولیاء اللہ اور عالمانِ دین سے ایسے الہامات اور کشف اور کرامت سنتے دیکھتے رہے ہیں اور ہرمست مدہوش دیوانہ کے