مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 405

طور پر اپنی کتاب میں درج فرما کر مشتہر فرمایا ہے۔اس سے یہ مراد حاصل ہوتی ہے کہ ملائے اعلیٰ میں توجہ اس طرف ہے اور جس کا انعکاس اس عالم فانی میں ہوتا ہے مگر جس قدر جس کی استعداد ہے اس پر اثرکر تا ہے۔آپ کی جیسے استعداد مخلوق فرمائی گئی آپ پر اسی قدر اثر ظاہر ہوا۔آپ کو خلعت اس فخر کا پہنایا گیا۔اللہ تعالیٰ اپنی عنایت رحمانی سے روز افزوں شرف یاب فرماوے۔جو اشارات اور بشارات آپ پر نازل ہوئے ہیں اس کو اعلان فرماوے۔آمین ثم آمین۔یہ کتاب ایسی اس زمانہ میں ہے جس کی ہر جگہ رائج ہونے کی ضرورت ہے۔آپ کی تجویز پر سوائے اَحْسَنْتَ کے اور کچھ زائد کرنا مناسب نہیں ہے مگر دست بستہ نیک نیتی سے عرض کرتا ہوں امید ہے کہ باوجود اس قدر بلند منزلت کے ناگوار نہ ہوگا۔اس وقت تعداد قیمت آدھی بھی حالات مسلمانوں پر گراں ہے اور تابع رواج اور اشتہار کے ہو رہی ہے۔اکثر غریب مسکین آدمیوں کو شوق دین کا ہوتا ہے۔متمول آدمیوں کو تو اپنے اشغال سے فرصت ہی نہیں ہوتی کہ توجہ دنیا سے دین کی طرف کریں۔اس واسطے کم استطاعت آدمی قیمت سن کر خاموش رہ جاتے ہیں کہ اپنی قدرو منزلت سے زیادہ سمجھتے ہیں۔جب آپ نے کل اوقات او رجائیداد اس کارِخیر میں مستغرق کردی ہے اور آپ کادرجہ اعلیٰ ملائے اعلیٰ میں ہے اس وقت اس فیضان عام کو کیوں محدود کیا گیا ہے؟ استمداد منعم حقیقی پر ہی کیوں تعلق چھوڑا نہیں گیا؟ اب یہ عاجز اپنا حال عرض کرتا ہے کہ ابتداء سے عاجز کو مطالعہ کتاب کا خصوص دینی او ر تواریخ کا اس قدر خیال ہے۔جب کتاب دستیاب ہو کسی وقت صبر نہیں آتا جب تک اوّل سے آخر تک مطالعہ نہ کر لیا جاوے۔اور درباب خرید کتب ہائے کے شوق نہیں معلوم ہوتا بلکہ روک ہو جاتی ہے۔کبھی اپنے ذہن میں مالیخولیااس کوقرار دیتا ہوں او رکبھی بخل۔مگر یہ عادت بدلتی نہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ایام شباب میں جب ایک دفعہ کسی کتاب کومطالعہ کر لیا یا کوئی واقعہ سن لیا یا سامنے گزر گیا۔جس وقت بروقت خیال کیا جاتا تھا سہو نہیں ہوتا تھا اور دوسری دفعہ کسی کتاب کو مطالعہ کرنے سے طبیعت نفرت کر جاتی تھی۔اب ذ را زیادہ غور سے یاد آتا ہے۔جناب سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر یہ باعث بخل کے ہو تو دعافرمائیں کہ خدا تعالیٰ نجات بخشے۔