مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 387
دکھائی دیتی ہے اور دھوکے سے نادان آدمی یہ خیال کر لیتا ہے کہ آسمان برنگ کبود ہے۔حالانکہ وہ ایک نورانی اور پاک جوہر ہے۔سو اسی طرح نقصان توجہ سے بھی دھوکے لگتے رہے ہیں جس میں سلب ایمان کاخطرہ رہتاہے۔اب قصے کو مختصر کرکے گزارش کرتا ہوں کہ جو آپ کے بزرگوار نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کی رو سے نہایت عمدہ خواب ہے۔کاش! آپ کے بزرگوار اور نیز آپ کو کچھ حصہ علم تعبیرسے ہوتا۔تا دونوں تہلکہ بدظنی سے بچ جاتے۔سو جاننا چاہئے کہ امام ابن سیرینؒ کہتے ہیں کہ زنّار کا باندھنا مستور الحال کے لئے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صاحب عزم ہے اور نہ گھٹے گااور نہ تھکے گا جب تک اپنے دشمنوں سے انصاف نہ لے اورگائومیش سے قومِ لایعقل اور نفس پرست لوگ مراد ہیں اور اس پر سوار ہونا اشارہ بہ غلبہ و ظفر و فتح ہے۔جس سے بالآخر سب نا اہل و نفس پرست ذلیل ہو جائیںگے اور حق ظاہر ہوجائے گا اور یہ جو اس بزرگ نے دیکھا کہ سواری کی حالت میں دُم کی طرف منہ ہے۔یہ اِعْرَاض عَنِ الْجَاھِلِین کی طرف اشارہ ہے یعنی جاہلوںسے منہ پھیرا ہواہے اور ان کے جاہلانہ شورو غوغا کی طرف التفات نہیں۔سو دُم کی طرف منہ کرنے سے یہی مراد ہے کہ جاہلوں سے اعراض کیا ہوا ہے اور آیت ۱؎ پر عمل ہے اور دوسری خواب پہلی خواب کی تائید میں ہے۔ریچھ سے مراد احمق اور سفلہ آدمی ہیں کہ جو ریچھ کی طرح ناحق اُلجھتے ہیں اور ریچھ کی کھال پر بیٹھنا تسلط تام سے مراد ہے۔اور ریچھ کی کھال اس کے اخلاق ذمیمہ کا پردہ ہے جس پردہ کو خداوند کریم بذریعہ اس عاجز کے فاش کرے گا۔اور یہ جو دیکھا کہ قرآن شریف اس کھال پر رکھا ہو اہے۔اس کی یہ تعبیر ہے کہ حجت قرآنی ایسے ریچھوں پر قائم ہو جائے گی۔گویا قرآن اس کھال پر رکھا گیا اور فرق بینائی سے اندوہ و حزن مراد ہے کہ جو شفقۃً علیٰ خلق اللہ طاری حال ہے۔چنانچہ ابن سیرینؒ وغیرہ معبروںنے شخص مامور الحال کیلئے یہی تعبیرلکھی ہے اور حوالہ اس آیت کا دیا ہے۔۲؎ بہ تعبیر اوّل کشف صریح کے ذریعہ سے اور پھر ابن سیرینؒ وغیرہ کے معتبر اقوال سے ۱؎ الاعراف: ۲۰۰ ۲؎ یوسف: ۸۵