مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 386

بد ہوا ہے اور کفر پر مر ے ہیں۔تھوڑے عرصہ کی بات ہے کہ ایک بزرگ مولوی فضل احمد نام نے کہ جو موضع فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ میں رہتے ہیں، ایام خورد سال میں اس احقر کے استاد بھی تھے اور اب تک بقیدِ حیات ہیں۔اس عاجز کے پاس ذکر کیا کہ ایک شخص نے پیغمبرخدا ﷺکو حالت خراب میں دیکھا اور لباس و وضع و مکان وحالت وغیرہ امور میں نالائق باتیں مشاہدہ کیں اور مولوی صاحب فرمانے لگے کہ اس خواب کے سننے سے مجھے بہت انقباض ہے اور ہر چند اس وسوسہ کو دور کرتا ہوں مگر بے اختیاری ہے۔تب میں نے امام زین العابدین وغیرہ کے اقوال ان کوپڑھ کر سنائے اور معتبر رسائل تعبیر کے کھول کر ان پر ظاہر کیا کہ اس پلیدباطن نے اپنے ہی نفس کو دیکھا ہے، نہ رسول خد اصلی اللہ علیہ وسلم کو۔اور میں یقینا جانتا ہوں کہ اس کاخاتمہ بد ہو گا۔تب مولوی صاحب سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کا تمام انقباض دور ہو گیااور فرمانے لگے کہ وہ شخص کچھ تھوڑی مدت اس خواب کے بعد عیسائی بھی ہو گیاہے۔سو خاتمہ بد پر ہی قوی علامت ہے اور نیز مولوی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ مجھ کو اس عمدہ تعبیر کی ہرگز خبر نہ تھی۔اب مجھ کو بہت بصیرت حاصل ہوئی۔سچ ہے کہ بغیر علم کے انسان اندھا ہوتا ہے۔غرض یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ جوشخص فانیوں کو حالت خراب میں دیکھتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفس کی حالت کو مشاہدہ کرتا ہے اور سِرّ اس میں یہ ہے کہ جو شخص اپنے نفس سے فانی ہے وہ بباعث اپنی نہایت شفقت کے کہ جو اس کو عباد اللہ سے ہے۔دوسروں کی حالت پر کہ جن میں شخص خواب بین بھی داخل ہے ایسا ہی درد مند ہے کہ جیسا کہ خود صاحب درد کو ہونا چاہئے۔پس اسی جہت سے شخص رائی کی حالت ناقصہ اس صاحب کمال میں کہ جو بوجہ غایت شفقت محوفی الخلق بھی بطور انعکاس دکھائی دیتی ہے اورسادہ لوح کو یہ دھو کہ لگتا ہے کہ واقعی طور پر یہ حالت اس میں موجود ہے۔اور کبھی اس کا باعث یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی شخص کاحال اور مقام دریافت کرنے کے لئے باطنی طور پر توجہ کرتا ہے اور وہ شخص جس کاحال دریافت کرنا منظور ہے۔وہ شخصِ متوجّہ کے منبع نظر سے بہت دور ہوتا ہے۔ناچار نظر باطنی کے تھکنے کی وجہ سے کچھ اپنے ہی حالات ظاہر ہو جاتے ہیں۔جیسے ایک شخص کہ جو آسمان کی طرف نظر کرتا ہے تو آسمان بوجہ دور ہونے کے اس کو نظر نہیں آتا۔لیکن اپنی ہی آنکھوں کے کبودی سایے فضائِ آسمان میں