مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 385
مکتوب نمبر ۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ از طرف احقر عباد عائذ باللہ الصمد بہ مخدومی مکرمی مولوی نور محمد صاحب۔سَلٰمٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔اما بعد۔نامہ گرامی آں مخدوم پہنچا۔یہ عاجز بباعث کم فرصتی و مشغولی ملاقات بعض احباب و نیز بوجہ ضعف طبیعت اب تک جواب لکھنے سے مقصر رہا اور اب بھی اس قدر طاقت و فرصت نہیںکہ مفصل لکھوں۔صرف مجمل طور پر عرض کرتاہوں کہ اگرچہ یہ عاجز اپنی ذاتی حالت کی رو سے فی الواقع نہایت آلودہ دامن اور ناچیز اور ہیچ ہے اور جس قدر بد ظنی کی جائے وہ تھوڑی ہے۔من آنم کہ من دانم۔لیکن اگر رنج ہے تو صرف اس قدر ہے کہ جس بنا پر آپ اور آپ کے ان بزرگوں نے جن کے رویا اور کشوف آپ کے زعم خام میں قطعی اور یقینی ہیں۔جن میں وحی انبیاء کی طرح ایک ذرہ خطا اور غلطی کی گنجائش نہیں ہے، اس ا حقر عباد پر کذب اور افترا کا الزام لگایا ہے اور اپنے گمان میں بہت کچھ فساد اور شرک اور کفر کی حالت کو بہ نسبت ایں احقریقین کرلیاہے۔ایسا یقین مسلمانوں کی حالت سے بعید ہے۔اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ(ﷺ)آپ کواور آپ کے بزرگوار کو بڑی وحشت میں اس خواب نے ڈالا ہے کہ جو نقول آپ کے اس بزرگوار نے دیکھی ہے جس میں ان کے متخیّلہ پر ایسا ظاہر ہوا کہ گویا یہ عاجز ایک ’’ َجھوٹہ‘‘ پرسوار ہے اور گلے میں زنّار ہے۔َجھوٹے کے دُم کی طرف منہ ہے اور پھر اس بزرگ نے یہ دیکھا کہ یہ عاجز ایک ریچھ کی کھال پر بیٹھا ہوا ہے اور اس پر قرآن شریف رکھا ہوا ہے۔اور پھر ایک دوسرے بزرگ نے بقول آپ کے اس عاجز کی بینائی میں فرق دیکھا۔ان دونوں خوابوں کی صورت پر نظر کرکے سیرت حسن ظن اسلامی کو آپ نے چھوڑ دیا اور جو کچھ تمہارے ربّ کریم نے تاکید فرمائی ہے کہ ظن المومنین والمومنات کا اپنے بھائیوں سے بخیر ہونا چاہئے۔اس تاکید کو یک لخت بھول گئے اور بڑے دعوٰے سے زبان کھولی کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔برادرم! آپ ناراض نہ ہوجائیں کہ یہ کلمہ کفر سے کچھ کم نہیں۔کاش اگر آپ کو کچھ سمجھ ہوتی کسی مومن کی نسبت ایسے ایسے وجوہات سے کفر یا شرک یافسق اور افترا کا یقین کرنا اوریہ کہنا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے، پرہیزگار اور نیک شعار اور نیک طبیعت مسلمانوں کا ہرگز طریق نہیں۔ ۱؎ نہ معلوم کہ آپ اور آپ کے بزرگوار کہاں سے اور کس سے سُن آئے کہ جو صورت مثالی خواب یا کشف میں مشہود ہو وہی صورت حقیقت مقصودہ ہوتی ہے۔کیونکہ آج تک تمام معبرین کا اسی پر اتفاق ہے کہ ہر ایک نوع رئویا اور کشوف میں اکثری اصول یہی ہے کہ جو امور صور حسیّہ اور مثالیہ میں ظاہر ہوتے ہیں وہ اپنی ظاہری شکل پر حمل نہیں کئے جاتے۔کیونکہ وہ تمام معانی ہیں جن کو ان صورتوں سے بوجہ من الوجوہ مناسبت ہے اوریہ مناسبت ہے کہ جو صرف بوجہ اعتقاد رائیقوت متخلیہ میں پیدا ہوجاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص اپنے دشمن کو سانپ کی صورت میں دیکھتا ہے۔سو یہ نہیں کہ سانپ کی صفات ذمیمہ فی الحقیقت اس دشمن میں موجود ہیں۔بلکہ ممکن ہے کہ دشمن اپنی ذاتی حالت کی رو سے پارسا اور نیک آدمی ہواور صرف رائی کے خبث اعتقاد نے سانپ کی صورت پر اس کو کردیا ہو۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو معانی صور مثالیہ میںمشتمل ہوکر قوت متخیلہ پر ظاہر ہوتے ہیںوہ شخص رائی کی خود اپنی ہی حالت ہوتی ہے اور جو خبث اور فساد کی کسی دوسرے کی نسبت وہ رائی دیکھتا ہے۔حقیقت میں وہ تمام خبث اور فساد اس کے اپنے ہی نفس میں بھرا ہوا ہے اور شخص مرئی جو کامل اور آئینہ صفت ہوتا ہے، وہ آئینہ کی طرح وہ خبث اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کہ جو نہایت بد شکل ہے جب وہ اپنی صورت آئینہ میں دیکھے گا تو ضرور اس کی شکل کا عکس آئینہ میں پڑے گا۔اب یہ بات نہیں کہ آئینہ بد شکل ہے بلکہ بباعث نہایت صفائی کے اس میں انعکاس بد شکلی کا ہوگیا ہے۔اسی جہت سے محققین علم تعبیر لکھتے ہیں کہ جو لوگ فانی ہیں وہ بباعث آئینہ صفت ہونے کے محل انعکاسی صفات ہو جایا کرتے ہیں۔اسی وجہ سے قدیم سے یہ تحریر ہوتا چلا آیا ہے کہ اکثر کَفَرَہ فَجَرَہ نے یا ایسوںنے جن کا خاتمہ بد تھا انبیاء اور اولیاء کو خراب اور فاسد حالتوں میں دیکھا ہے اور آخر انجام ایسے لوگوں کا ۱؎ البقرۃ: ۹