مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 365
امام الوقت کی خط و کتابت ذیل میں ہم امام الزمان حضرت سیّدنا مرزا صاحب ایّدہ اللہ کا وہ ہدایت نامہ بڑے فخر سے درج کرتے ہیں جو حضور نے میاں محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو اُن کی یہ بات سن کر ’’کہ میں نماز میں اُن پر لعنت کرتا ہوں۔’’معاذ اللہ‘‘ اپنی سچی ہمدردی اور حقیقی جوشِ محبت سے (جو اس مقدس قوم کو بنی نوع انسان سے عموماً اور اپنے مخالفوں سے خصوصاً ہوتی ہے) لکھا اور یہ قول سچ کر دکھایا۔گالیاں سُن کے دُعا دیتا ہوں اُن لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اس خط کو پڑھ کر ہمارے ناظرین معلوم کریں گے کہ باوجود یکہ یہ کریم النفس انسان ایک نادان مولوی کے سبّ و شتم سے سخت ستایا گیا اور رنج دیا گیا اور نہ اپنے لئے بلکہ اس لئے کہ اُس نے اُس کو خدا کی اور آسمان کی باتیں سنائیں۔ایسی حالت میں اس مقدس انسان نے جب کب اس نادان مخالف الرائے کے حق میں دعائے خیر ہی کی ہے اور ہمیشہ یہی آرزو ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کو وہ آنکھ اور بصیرت دے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی قدرت نمائیوں کے دیکھنے پر قادر ہو سکے۔اس وقت بھی اُس کے لعن طعن سن کر اس راست باز نے یہی چاہا کہ گو عرصہ سے خط و کتابت بند ہو۔تو ہو۔خود ہی ابتداء کر کے پھر اس کو تبلیغ کی اور ایک عظیم الشان نشان ظاہر ہونے سے پیشتر اُس کو سچی ہمدردی اور جوش دل سے لکھا تا وہ اُس وقت جب وہ نشان ظاہر ہو۔اس ہدایت نامہ سے مدد لے کر اپنی اصلاح کر لے۔مگر اس شتاب کار مُلاں کی تیزی طبع ملاحظہ ہو کہ بجائے اس کے اُس خط سے استفادہ کرتا اور صبر و استقلال سے اُس نشان کا انتظار کرتا اور کرشمہ قدرت کو دیکھنے کے لئے اپنے آپ کو طیار کرتا۔اُس معاملہ کرسی کے جھگڑے کو لے بیٹھا کہ ثابت کرو کہ مجھے مقدمہ ہنری کلارک میں کرسی نہیں ملی اور جھڑکیاں ملیں۔ناظرین خود حضرت مسیح الزمان اور اُس کے خط کو پڑھ کر اندازہ کر لیں گے کہ کونسا خط اپنے اندر ہدایت کی روشنی اور کونسا بدحواسی کی تاریکی رکھتا ہے۔الغرض