مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 364

اگرچہ روزِ عید سے دوسرا دن ہے مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ کے مان لینے اور قبول کرنے سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ میں آج کے دن کو بھی عید کا ہی دن سمجھتا ہوں۔الحمدللہ ثم الحمدللہ کہ اب ایک کھلے کھلے فیصلہ کے لئے بات قائم ہوگئی۔اب لوگ اس بات کو بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کو بقول آپ کے کافر اور کذّاب ثابت کرتا ہے یا وہ امر ظاہر کرتا ہے جو صادقین کی تائید کے لئے اس کی عادت ہے۔اگر چہ دل میں اس وقت یہ خیال بھی آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ آپ اس صاف اقرار کے بعد رسالہ میں کچھ اور کا اور لکھ ماریں، لیکن پھر اس بات سے تسلی ہوتی ہے کہ ایسے صاف اور کھلے کھلے اقرار کے بعد کہ میں نے آپ کی ہر ایک بات مان لی ہے۔ہرگز ممکن نہیں کہ آپ گریز کی طرف رُخ کریں اور اب آپ کے لئے یہ امر ممکن بھی نہیں کیونکہ آپ ان شرائط پیش کردہ کو بغیر اس عذر کے کہ ان کی انجام دہی کی مجھ میں لیاقت نہیں اور کسی صورت سے چھوڑ نہیں سکتے اور خودجیساکہ آپ اپنے اس خط میں قبول کر چکے ہیں کہ میں نے ہر ایک بات مان لی تو پھر ماننے کے بعد انکار کرنا خلاف وعدہ ہے۔مجھے اس بات سے بھی خوشی ہوئی کہ میری تحریر کے موافق آپ مباہلہ کے لئے بھی تیار ہیں اور اپنی ذات کی نسبت کوئی نشان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔سبحان اللہ! اب تو آپ کچھ رخ پر آگئے۔اگر رسالہ میں کچھ نئے پتھر نہ ڈال دیں مگر کیوں کر ڈال سکتے ہیں۔آپ کا یہ فقرہ کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں۔طیار ہوں۔حاضر ہوں۔صاف خوشخبری دے رہا ہے کہ آپ نے میری ہر ایک بات اور ہر ایک شرط کو سچے دل سے مان لیا ہے۔اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خوشخبری کو چھپایا نہ جائے بلکہ چھپوایا جائے۔اس لئے معہ آپ کے خط کے اس خط کو چھاپ کر آپ کی خدمت میں نذر کرتا ہوں اور ایفاء وعدہ کا منتظر ہوں۔والسلام علیٰ من اتبع الھدٰی۔٭ الراقم ۱۹؍اپریل ۱۸۹۳ء خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ٭ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۳۲۱ تا ۳۲۳