مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 352
رحم کر کے خط بھیجا تھا تا آپ تحت الثریٰ میں نہ گر جائیں اور قبل از موت حق کو سمجھ لیں۔مسلمانوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈالنا تو آپ ہی کا شیوہ ہے یہی تو آپ کا مذہب اور طریق ہے۔جس کی وجہ سے آپ نے ایک مسلمان کو کافر اور بے ایمان اور دجال قرار دیا اور علماء کو دھوکے دے کر تکفیر کے فتوے لکھوائے اور اپنے استاد نذیر حسین پر موت کے دنوں کے قریب یہ احسان کیا کہ اس کے مونہہ سے کلمہ تکفیر کہلوایا اور اس کی پیرانہ سالی کے تقویٰ پر خاک ڈالی۔آفرین باد بریںہمت مردانۂ ُتو! نذیر حسین تو اَرذلِ عمر میں مبتلا اور بچوں کی طرح ہوش و حواس سے فارغ تھا۔یہ آپ ہی نے شاگردی کاحق ادا کیا کہ اس کے اخیروقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکروہ سیاہی اس کے مونہہ پر مل دی کہ اب غالباً وہ گور میں ہی اُس سیاہی کو لے جائے گا۔خدا تعالیٰ کی درگاہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔جو شخص مسلمان کو کافر کہتا ہے اس کو وہی نتائج بھگتنے پڑیں گے جن کا ناحق کے مکفّرین کیلئے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ دے رکھا ہے۔جو ایسا عدل دوست تھا جس نے ایک چور کی سفارش کے وقت سخت ناراض ہو کر فرمایا تھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ بنت محمدؐ چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔قولہ: (اس صورت میں قادیان پہنچ سکتا ہوں) کہ مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔اقول: اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے۔اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کر دی ہیں اور اللہ جلّشانہٗ کی قسم بھی دی ہے کہ آپ آسمانی طریق سے میرے ساتھ صدق اور کذب کا فیصلہ کر لیں۔اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھنے میں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے اور کچے اور بیہودہ عذرات سے ٹال دیں گے۔اور میں آپ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ایک ہی ہے جو آپ کو در حالت نہ باز آنے کے ہلاک کرے گا اور اپنے دین کو آپ کے اس فتنہ سے نجات دے گا اور آپ کے قادیان آنے کی کچھ ضرورت نہیں۔اگر آپ اللہ اور رسول کے نشان کے موافق آزمائش کیلئے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آ سکتا ہوں۔تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔۱؎ ۱؎ آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۳۰۴ تا ۳۱۰