مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 353

مکتوب نمبر۲۱ جواب الجواب شیخ بٹالوی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ ۔۱؎ اما بعد۔آپ کا رجسٹری شدہ خط مؤرخہ ۴؍جنوری ۱۸۹۳ء کو مجھ کو ملا۔اگرچہ آپ کا یہ خط جو کذب اور تہمت اوربے جا افتراؤں کا ایک مجموعہ ہے اس لائق نہیں تھا کہ میں اس کا کچھ جواب آپ کو لکھتا ،فقط اعراض کافی تھا لیکن چونکہ آپ نے اپنے خط کے صفحہ دو اور تین میں اس عاجز کی تین پیشگوئیوں کا ذکر کر کے بالآخر اس تیسری پیشگوئی پر حصر کر دیا ہے جو نور افشاں دہم مئی ۱۸۸۸ء اور نیز میرے اشتہار مشتہرہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء میں درج ہے اور آپ نے اقرار کیا ہے کہ اگر اس الہام کا سچا ہونا ثابت ہو جائے تومیں آپ کو ملہم مان لوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ میں نے آپ کے عقائد و تعلیمات کو مخالف حق اور آپ کو بداخلاق اور گمراہ سمجھنے میں غلطی کی۔اس لئے اس عاجز نے پھر آپ کی حالت پر رحم کر کے آپ کو اس الہامی پیشگوئی کے ثبوت کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھا۔وہ پیشگوئی جیسا کہ آپ خود اپنے خط میں بیان کر چکے ہیں۔یہی تھی کہ اگر مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری اپنی بیٹی اس عاجز کو نہ دیوے اور کسی سے نکاح کر دیوے تو روز نکاح سے تین برس کے اندر فوت ہو جائے گا۔اس پیشگوئی کی یہ بنیاد نہیں تھی کہ خواہ نخواہ مرزا احمد بیگ کی بیٹی کی درخواست کی گئی تھی بلکہ یہ بنیاد تھی کہ یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ بھی ایک تھا۔اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے سخت مخالف تھے اور ایک ان میں سے عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اللہ جلّشانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذہب دہریہ رکھتا تھا اور نشان کے طلب کے لئے ایک اشتہار بھی جاری کر چکا تھا اور یہ سب مجھ کو مکّار خیال کرتے تھے اور نشان مانگتے تھے اور صوم و صلوٰۃ اور عقائد اسلام پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ ان پراپنی حجت پوری کرے۔سو اس نے نشان دکھلانے میں وہ پہلو اختیار کیا ۱؎ النَّمل: ۶۰