مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 351

اقول: اے حضرت! آپ کو آنے سے کس نے منع کیا تھا؟ یا میری ڈیوڑھی پر دربان تھے جنہوں نے اندر آنے سے روک دیا؟ کیا پہلے اس سے آپ پوچھ پوچھ کر آیا کرتے تھے؟ آپ کے تو والد صاحب بھی بیماری اور تپ کی حالت میں بھی بٹالہ سے افتاں خیزاں میرے پاس آجاتے تھے پھر آپ کو نئی روک کونسی پیش آ گئی تھی؟ اور جب کہ آپ اپنے ذاتی بخل اور ذاتی حسد اور شیخ نجدی کے خصائل اور کبر اور نخوت کو کسی حالت میں چھوڑنے والے نہیں تھے تو میں آپ کو اپنے مکان پر بلا کر کیا ہمدردی اور رحمت کرتا؟ ہاں! میں نے آپ کے مکان پر بھی جانا خلافِ مصلحت سمجھا کیونکہ میں نے آپ کے مزاج میں کبر اور نخوت کا مادہ معلوم کر لیا تھا اور میرے نزدیک یہ قرینِ مصلحت تھا کہ آپ کو ایک مسہل دیا جائے اور جہاں تک ہو سکے وہ مادہ آپ کے اندر سے باستیفا نکال دیا جائے۔سو اب تک تو کچھ تخفیف معلوم نہیں ہوتی۔خدا جانے کس غضب کا مادہ آپ کے پیٹ میں بھرا ہوا ہے۔اور اللہ شانہٗ جانتا ہے کہ میں نے آپ کی بدزبانی پر بہت صبر کیا۔بہت ستایا گیا اور آپ کو روکے گیا اور اب بھی آپ کی بدگوئی اور تکفیر اور تفسیق پر بہرحال صبر کر سکتا ہوں لیکن بعض اوقات محض اس نیت سے پیرایہ درشتی آپ کی بدگوئی کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہوں کہ تا وہ مادہ خبث کہ جو مولویت کے باطل تصور سے آپ کے دل میں جما ہوا ہے اور جِنّ کی طرح آپ کو چمٹا ہوا ہے۔وہ بکلّی نکل جائے۔میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوان فروش ہیں اور علم اور درایت اور تفقّہ سے سخت بے بہرہ اور ایک غبی اور بلید آدمی ہیں جن کو حقائق اور معارف کے کوچہ کی طرف ذرہ بھی گزر نہیں اور ساتھ اس کے یہ بلا لگی ہوئی ہے کہ ناحق کے تکبر اور نخوت نے آپ کو ہلاک ہی کر دیا ہے۔جب تک آپ کو اپنی اس جہالت پر اطلاع نہ ہو اور دماغ سے غرور کا کیڑا نہ نکلے تب تک آپ نہ کوئی دنیا کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں نہ دین کی۔آپ کا بڑا دوست وہ ہوگا جو اس کوشش میں لگا رہے جو آپ کی جہالتیں اور نخوتیں آپ پر ثابت کرے۔میں نہیں جانتا کہ آپ کو کس بات پر ناز ہے۔شرمناک فطرت کے ساتھ اور اس موٹی سمجھ اور سطحی خیال پر یہ تکبر اور یہ ناز نعوذ باللّٰہ من ھذہ الجھالۃ والحمق و ترک الحیاء والسخافۃ والضلالۃ۔اور آپ کا یہ خیال کہ میں نے اب فساد کیلئے خط بھیجا ہے تا کہ بٹالہ کے مسلمانوں میں پھوٹ پڑے۔عزیز من! یہ آپ کے فطرتی توہمات ہیں۔میں نے پھوٹ کیلئے نہیں بلکہ آپ کی حالتِ زار پر