مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 342

مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آجاؤ، تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رُو سے کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص مُتخلّف رہا اور باوجود اشدّ غُلّو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا۔(۱)  (۶)  (۲)  (۷)  (۳)  (۸)  (۴)  (۹)  (۵)  (۱۰)  تِلْکَ عَشْرَۃٌ کَامِلَۃٌ یہ وہ فیصلہ ہے جو خدا تعالیٰ آپ کر دے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ مومن بہرحال غالب رہے گا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومن پر راہ پاوے اور نیز فرماتا ہے۔ ۲؎ یعنی اے مومنو! اگر تم متقی بن جاؤ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا تعالیٰ ایک فرق رکھ دے گا۔وہ فرق کیا ہے کہ تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا۔یعنی نورِ الہام اور نورِ اجابتِ دُعا اور نورِ کراماتِ اصطفا۔اب ظاہر ہے کہ جس نے جھوٹ کو بھی ترک نہیں کیا وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے آگے متقی ٹھہر سکتا ہے اور کیونکر اس (سے) کرامات صادر ہو سکتی ہیں۔غرض اس طریق سے ہم دونوں کی حقیقت مخفی کھل جائے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ کون میدان میں آتا ہے اور کون بموجب آیت کریمہ ۳؎ اور حدیثِ نبوی اَصْدَ قُکُمْ حَدِیْثًا۴؎ کے صادق ثابت ہوتا ہے۔مع ہذا ایک اور بات بھی ذریعہ آزمائش صادق ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ۱؎ النساء: ۱۴۲ ۲؎ الانفال: ۳۰ ۳؎ یونس: ۶۵ ۴؎ مسلم کتاب الرؤیا باب فی کون الرؤیا من اللّٰہ وانھا جزء من النبوۃ حدیث نمبر۵۹۰۵